پاکستان پیٹرولیم پر 30 ارب روپے سے زائد کا واجبات، بلوچستان حکومت کا قانونی راستہ اختیار کرنیکا فیصلہ
کوئٹہ : بلوچستان حکومت اور پاکستان پیڑولیم لمیٹڈ کے درمیان سوئی گیس لیز کی رائلٹی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، بلوچستان حکومت نے تیس ارب سے زائد کے واجبات کی وصولی کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا، صوبائی وزرا اور محکمہ توانائی کے حکام پر مشتمل ٹیم آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گی۔ بلوچستان کے علاقے سوئی میں بلوچستان حکومت اور پی پی ایل کے درمیان سوئی گیس لیز کا معاہدہ 2016ءسے ختم ہوچکا ہے اور پی پی ایل پچھلے سات برسوں سے بغیر لیز رائلٹی دیے صوبے سے گیس نکال رہی ہے۔ اس سلسلے میں بلوچستان حکومت کا مو¿قف ہے کہ پی پی ایل پر گیس رائلٹی کے 55 ارب روپے کے واجبات ہیں جبکہ پی پی ایل تیس ارب روپے کے واجبات تسلیم کرتی ہے مگر اس رقم کی ادائیگی کو بلوچستان حکومت اور پی پی ایل کے درمیان نئے معاہدے سے مشروط کرتی ہے جبکہ دیگر 25 ارب روپے پر بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ بلوچستان حکومت اور پاکستان پیڑولیم لمیٹڈ کے درمیان سوئی گیس لیز کی رائلٹی کا معاملہ سات سال گزرنے کے باوجود حل نہیں ہوسکا ہے، بلوچستان حکومت نے تیس ارب سے زائد کے واجبات کی وصولی کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا، صوبائی وزرا اور محکمہ توانائی کے حکام پر مشتمل ٹیم آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گی۔


