محکمہ شماریات کے ارباب و اختیار وسیع و عریض رقبے پر مشتمل بلوچستان میں کونے کونے میں پہنچنے کو یقینی بنائیں، آغا حسن بلوچ

کوئٹہ+اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ ماضی میں جتنی بار مردم شماری کی گئی بلوچ اور بلوچستانیوں کی آبادی کو کم ظاہر کر کے عوام کا معاشی اور معاشرتی قتل کیا گیا جو باعث تشویش ہی رہا ہے بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں پارٹی کی مرکزی قیادت نے ہمیشہ بلوچستان کے تمام معاملات میں اصولی موقف رکھا سول حکمرانوں کا دور ہو یا آمریت کا دور دورہ ہو ہمیشہ اصولی اور غیرمتزلزل انداز میں ہم نے اپنے نظریات کا پرچار کیا بالخصوص2017ءیا اس سے قبل مردم شماری کئے گئے اس میں بلوچستانیوں کی آبادی کم ظاہر کی گئی پارٹی ترقی پسند روشن خیال جماعت ہے تنگ نظری اور نسل پرستی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے افغان مہاجرین سے متعلق دہائیوں سے جو موقف رہا ہے اس موقف پر قائم ہیں پارٹی سمجھتی ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں بلوچستان میں مہاجرین نے شناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں کا حصہ بنایا گیا ہے یہ ہم سے زیادہ مقامی پشتونوں کے لئے مستقبل میں مسائل کا سبب بنیں گے تعلیم ، روزگار ، معاشی منڈیوں ، اراضیات پر قبضے کا باعث بنیں گے بلوچستان کے غیور عوام نے جتنی مہاجرین کی مہمان نوازی کرنی تھی کر لی جو اب تک جاری ہے افغان مہاجرین کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واضح طور پر مردم شماری فارم میں اپنے آپ کو غیر ملکی ظاہر کریں عملہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تصدیق کے بعد فارم پر کریں اور غیر ملکیوں کو غیر ملکی لکھیں افغان مہاجرین کے جو کیمپس بلوچستان میں قائم ہیں وہاں غیر ملکی کا انداراج کیمپوں کے نام پر کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کا مزید معاشی ، معاشرتی استحصال نہ ہو سکے محکمہ شماریات کے ارباب و اختیار وسیع و عریض رقبے پر مشتمل بلوچستان میں کونے کونے میں پہنچنے کو یقینی بنائیں آواران ، شاہ نورانی ، سارونہ ، نوشکی ، کوہلو ، ڈیرہ بگٹی ، ضلع خضدار کے دور دراز علاقے ، مکران ، جھالاوان سمیت تمام علاقوں کیلئے ڈیڈ لائن میں مرکزی حکومت و محکمہ شماریات توسیع کرے اس میں کوئی قباحت نہیں مردم شماری کا عمل جاری رکھا جائے اور کوئی ایسا فرد باقی نہیں رہے تو مردم شماری کا حصہ نہ ہو بلوچستان کی بڑی آبادی دیہاتوں ، قصبوں ، دور دراز علاقوں میں آباد اور زراعت اور گلہ بانی کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کو لازمی مردم شماری میں شامل کرنا ان کا بنیادی حق ہے –

اپنا تبصرہ بھیجیں