پاکستان امیزون کا جنگل نہیں، اداروں کی لڑائی میں عوام کہاں جائیں، خالد مگسی

کوئٹہ : بلوچستان عوامی پارٹی کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے کہاہے کہ22سال محنت کے بعد عمران خان اپنے پاﺅں پر اقتدار میں آتا تو سلام کرتے آج ان کے منہ سے جمہوریت کی باتیں اچھی نہیں لگیں ،پاکستان عوام کی خدمت کیلئے بنایاگیاتھا یہ امیزون کا جنگل نہیں کہ صرف درختیں ہوں اور لوگ نہ ہوں ،70سال میں عوام کیلئے ایک بھی پالیسی نہیں بنی اداروں کی لڑائی میں عوام کدھرجائیں؟کوئی کہتاہے کہ آئین اور قانون تو دل ودماغ نہیں مانتا اگر آئین ہے تو پھر سب کیلئے برابر ہوناچاہےے ،اس وقت ایک دم آئین وقانون کے ساتھ محبت ہوگئی ہے پاکستان میں سب سے اہم ادارہ پارلیمان ہے اگریہ ادارہ اوپرنہ آیاتوپھر پاکستان ترقی نہیںکرسکتا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پارلیمان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔نوابزادہ خالد مگسی نے کہاکہ گزشتہ چال سال جس تجربے کے تحت عمران خان کی حکومت لائی گئی اور ہم ان کے ساتھ تھے ،بجٹ کا سال تھا ہمیں وزیراعظم ہاﺅس سے اطلاع ملی کہ کھانا اور میٹنگ ہے ،دو دن قبل ہم کہیںاور کمٹ کرچکے تھے عمران خان سے ملنے گئے توانہوںنے کہاکہ اس کے بعد کھانا کھانا ہے ہم نے کہا کہ ہم کھانا چوہدری شجاعت کے ساتھ کھانے کا کہہ کر آئے ہیں میٹنگ کرتے ہیں تو انہیں اعتراض لگا کہ وزیراعظم کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہے ہم نے کہاکہ ہم بلوچ ہیں ہم نے کمٹمنٹ کی ہے کھانا کھانے ہم وہی جائیںگے ہمیں توڑامسئلہ ہوا چار ممبر فارغ تھے زبیدہ جلال صاحبہ کابینہ کا حصہ تھی وہ سوچ رہے تھے کہ زبیدہ جلال بیٹھ جائیںگی لیکن وہ بھی کھڑی ہوگئی اس دن سے میں ان کا اور عزت کرتاہوں اس نے کہاکہ ہم نے اپنی پارٹی کے ساتھ جائیںگے ،جب جارہے تھے تو ہمیں راستے میں فون آناشروع ہوگئے کہ آپ نے کھانے پر نہیں جانا میں چھپ رہا توکھانے کا بھی مزہ نہیں رہے گایہ حالت تھی گزشتہ چار سالوں کی جو گزری ،پھر بیٹھ کر ہم لیول چیک کرتے تھے کہ کس کو کس لیول کا فون آتاہے عمران خان آج جمہوری اور سیاست کی بات کرتاہے کونسا نظام اور جمہوریت ،اگر عمران خان 22سال محنت کے بعد اپنے پاﺅں پرآتا تو ہم اس کو سلام کرتے آج اس کو پہلے لانے کیلئے ایک ادارہ تھا اب دوسرے ادارے کی لڑائی ہوگئی ہے اداروں کی لڑائی میں ہم عوام کہاں جائیں ؟پاکستان کو اس لئے بنایاتھاکہ سارے مل کر خدمت کرینگے پاکستان کا نام عوام ہے جو عوام کیلئے بناتھا امیزون کا جنگل نہیں کہ یہاں صرف درختوں کی ضرورت ہے یہ ملک انسانوں کیلئے بناناہے ،70سال میں عوام کیلئے ایک بھی پالیسی نہیں بنی اگر کہیں پر سورج نکلنے لگا تو اس کے ساتھ جو حشر ہوا وہ بے نظیر بھٹو،بھٹوشہید، فاطمہ جناح سب کے سامنے ہیں ،یہاں آمرانہ دور کتنا عرصہ چلا،کوئی کہتاہے کہ آئین اور قانون تو دل ودماغ نہیں مانتا اگر آئین ہے تو پھر سب کیلئے برابر ہوناچاہےے ،اس وقت ایک دم آئین وقانون کے ساتھ محبت ہوگئی ہے ،سیکورٹی ،مردم شماری جیسے مسائل ہیں اہم مسئلہ اگر دوصوبوں کے انتخابات ہوں نئے حکومتیں آئیں توپھر ان کی سرپرستی میںانتخابات کیسے ہونگے ؟اگر فیصلہ دیناتھاتو فل کورٹ کافیصلہ سب جماعتیں مان لیتی فیصلے سے بحرانی کیفیت پیداہوئی ہے ،جب حکومت ملی تو اس وقت عمران خان کے منہ سے بھی بہت کچھ نکلی ہے ،ساری جماعتیںمطالبہ کررہی ہے کہ تین کی بجائے اگرسارے ججز مل بیٹھ کر فیصلہ کرینگے تو ان کے فیصلے کے آنے سے تسلی ہوجائےگی کہ سب کافیصلہ ہے ملک کو جس جانب دھکیلاجارہاہے اداروں کا تصادم آگے بڑھ جائیں ،سیکورٹی نہ ہوں تو پھر الیکشن کیسے ہوںگی نئی ٹکر شروع ہوجائےگی۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے صوبوں والے کے معاملے پر الگ رویہ اور پنجاب کے معاملے پر الگ رویہ تشویشناک ہے ،ادارے پارٹی بن گئے ہیں ،نیا آئین قانون پاس کرتے ہیں اداروں کو بانٹ کر انہیں بھی ٹکٹ دیتے ہیں ہمیں اس صورتحال سے نکلناپڑے گاپارلیمنٹ کو ایک موقع ملاہے کہ ایک دانشمندانہ فیصلہ کرے ایک آزمائش ہے ۔گھبرانے سے کام نہیں ہوگاعمران خان بھی کہتاتھاکہ گھبرانا نہیںجب سبق ملتاہے تو پھر گھبرانا کیوں؟ پاکستان میں سب سے اہم ادارہ پارلیمان ہے اگریہ ادارہ اوپرنہ آیاتوپھر پاکستان ترقی نہیںکرسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں