ہزارہ ٹاؤن واقعہ کو دو مسالک یا قوموں کا مسئلہ نہ بنایا جائے ،اے پی سی بُلائی جائیگی، سیاسی ومذہبی رہنماء

کوئٹہ:صوبائی وزیرداخلہ ،ارکان صوبائی اسمبلی ،سیاسی ،قبائلی و مذہبی رہنماوں نے کہا ہے کہ ہزارہ ٹاؤن واقعہ کو دو مسالک یا قوموں کا مسئلہ نہ بنایا جائے صوبے میں اندرونی و بیرونی عناصر ملکر شرپسندی پھیلاناچاہتے ہیں جسے روکنے کیلئے ہم سب کوملکر کردارادا کرنے کی ضرورت ہے ہزارہ ٹاؤن واقعہ کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس اور مشترکہ پریس کانفرنس بلائی جائے گی سانحہ ہزارہ ٹاون کی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی تمام مکاتب فکر کے لوگ ملکر اپنی صفوں میں شرپسندوں کی نشاندہی کریںساتھ ہی سوشل میڈیا پر شرانگیز مواد پھیلانے والوںکے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ بات وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو، اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ،عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیدڑ و صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی،بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیرشاہوانی ،ایچ ڈی پی کے رکن اسمبلی قادر علی نائل ،پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی ،پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک،علامہ ہاشم موسوی ،مولانا عبدالحق ہاشمی ،عصمت اللہ سالم،آغا ناصر علی شاہ،مولانا انوارالحق حقانی ،احمد علی کوہزاد،قاری مہراللہ ،حبیب اللہ چشتی ،جواد ہزارہ ،ڈاکٹر عطاء الرحمن،رضاوکیل ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حافظ عبدالباسط،اے آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگزیب بادینی اور دیگر نے جمعرات کوسول سیکرٹریٹ میں سکندر جمالی آڈیٹوریم میں منعقدہ سیاسی ،مذہبی ،قبائلی رہنماوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صوبائی وزیرداخلہ میرضیاء لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی کوئٹہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے جہاں امن و امان ،بھائی چارے ،رواداری کیلئے ہم سب کو کردارادا کرنا ہے آج تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکجا ہوکر شرپسند عناصر کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم ایک ہیں اور اپنا امن کسی کو خراب نہیں کرنے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو بھائی چارے اور بھائی بندی کا پیغام دینا چاہئے کہ ہم شرپسند عناصر کو نہیں مانتے تمام سیاسی جماعتوں ،علماء کرام ،قبائلی رہنماوں کی ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی جس میں ہزارہ ٹاون جیسے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب ملکر شہید بلال کے لواحقین سے فاتحہ خوانی کرکے انکے غم میں شرکت کریں گے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ماضی کی طرح اس بار جے آئی ٹی کی رپورٹ سردخانوں کی زینت نہیں بنے گی اور ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمیںمعاشرے کے زوال کی وجوہات کو دیکھنا ہوگا ہزارہ ٹاون واقعہ پشتون ،ہزارہ یا مسالک کا مسئلہ نہیں ہے ہمیں ایک بہتر ماحول فراہم کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کیلئے شہید کے گھر جانا ہوگا معاشرے میںریفارمز کا تسلسل شروع کیا جاناچاہئے ساتھ ہی اگر قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا تواس سے شرپسندوں کا راستہ رکے گا ۔عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ ہم پہلے دن سے ہی اس واقعہ کے منفی نتائج کی روک تھام کیلئے کوشاں ہیں بدقسمتی سے ہم صرف جنازوں اور غم میں ایک ساتھ بیٹھتے ہیں امید ہے کہ ہم ایک مشترکہ سوچ کے تحت امن اور بھائی چارے سے مسائل پرقابو پانے میں کامیاب ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ شہید اور زخمیوں کے لواحقین کے تقریبا ً تمام مطالبات پر عملدرآمد ہوچکا ہے یہ ہزارہ ،پشتون مسئلہ بلکہ انفرادی کام تھا جس پر شہید کے لواحقین نے بھی کہا ہے کہ یہ د و قوموں کا مسئلہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اسماعیل شہید کے اہل خانہ کے غم میں بھی برابر کے شریک ہیں شرپسند عناصرسوشل میڈیا کااستعمال کرکے افراتفری اور خون خراب پیدا کرنا چاہتے ہیںخطہ دنیا اور اندرونی حالات کی وجہ سے پہلے ہی بہت نقصان اٹھاچکا ہے ہمیں اب طے کرنا ہے کہ ہم کسی کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونگے حالات ابھی قابو میں ہیں انہیں مستحکم رکھنے کیلئے سب کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیرشاہوانی نے کہا کہ ہزارہ ٹاون واقعہ دلخراش واقعہ ہے جس پر کوئٹہ کا ہر قبیلہ ،قوم اور فرقے کے لوگ غمزدہ ہیں اس واقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شرپسند عناصر نے جس طرح نفرت انگیزی پھیلائی اسے روکنا چاہئے اور شہر کا امن بحال کرنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جانی چاہئے شرپسند عناصر کے خلاف ایف آئی اے ،سائبر کرائم کو کارروائی کرنی چاہئے ۔ایچ ڈی پی کے رکن اسمبلی قادر علی نائل نے کہا کہ ہم نے کوئٹہ شہر میں رہتے ہوئے بہت سی قربانیاں دی ہیںہزارہ ٹاون واقعہ کسی قوم کا نہیں بلکہ انفرادی عمل تھا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ہمارا جینا مرنا اس شہر سے ہے اگر ہم نے اپنی مثبت روایات کو چھوڑ دیا تو ہمارا چلنا مشکل ہوجائے گا ہمیں اشتعال انگیز عناصر کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے اور شہر میں بھائی چارے کے فروغ کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئے۔پیپلز پارٹی کے صوبائی صدرحاجی علی مدد جتک نے کہا کہ ہزارہ ٹاون واقعہ کو شیعہ سنی کا رنگ نہ دیا جائے یہ کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے میں پائی جانے والی انتہاء پسندی کا منظر ہے جس کا تدارک ہم سب کو ملکر کرنا چاہئے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے اور شرانگیزی کی روک تھام کی جانی چاہئے ہم سب کوئٹہ شہر میں رہتے ہیں اسکا امن ہم سب کی ذمہ داری ہے ملک دشمن عناصر انتشار پیدا کرکے اہم ترین منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ہمیں لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انکے گھر میڑھ لیکر جانا چاہئے۔علامہ ہاشم موسوی ،مولانا عبدالحق ہاشمی ،عصمت اللہ سالم،آغا ناصر علی شاہ،مولانا انوارالحق حقانی ،احمد علی کوہزاد،قاری مہراللہ ،حبیب اللہ چشتی ،جواد ہزارہ ،ڈاکٹر عطاء الرحمن،رضاوکیل و دیگر نے کہا کہ ہزارہ ٹاون واقعہ شرپسند عناصر کی کوئٹہ شہر کے امن و رواداری کو خراب کرنے کی سازش تھی جے آئی ٹی کی رپورٹ مقررہ وقت میں مکمل کرکے ذمہ داروں کا تعین اورانہیں سزا دینی چاہئے ہم نے نوجوانوں کو رواداری ،محبت ،بھائی چارے کا درس نہیں دیا جس کی وجہ سے یہ واقعات ہورہے ہیںدہشت گردی اور بدامنی پھیلانے میں بیرونی عناصر بھی ملوث ہیںان عناصر کا محاسبہ کیاجاناچاہئے بلوچستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اوراسکا امن ہمیں عزیز ہے ہمیں اپنی صفوں میں موجود شرپسندوں کی نشاندہی کرنی ہوگی اورانہیں اپنے آپ سے الگ کرنا ہوگا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط نے کہا کہ کوئٹہ میں ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیںہمیں ہزارہ ٹاون واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیناچاہئے سیکورٹی فورسز نے امن و امان کیلئے بہت سی قربانیاں دی ہیں سرکار کے پاس بہت سے وسائل اور آپشن ہوتے ہیں لیکن ہم چیز پر کرفیو نافذ نہیںکرسکتے سیاسی ،قبائلی و سماجی رہنماوں اور اکابرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کے تدراک کیلئے حکومت کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اے آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا کہ جے آئی ٹی جانفشانی سے ہزارہ ٹاون واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے انشاء اللہ ہم مقررہ وقت میں اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کردیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں