حکیم بلوچ: ایک ہمہ جہتی شخصیت
تحریر: پناہ بلوچ
بلوچستان کا تاریخی اور نخلستانی شہر پنجگور "مزّاتی” نامی کھجور کے ساتھ ساتھ مردم خیزی کے اعتبار سے بھی صوبے کا مشہور شہرشمار کیا جاتاہے۔ یہاں سے متعدد قلم کار، ادیب، دانشور، شاعر، مترجم، ڈارمہ نویس، ماہر تعلیم اور بیوروکریٹ جنم لیا اور اپنے اپنے شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ ان میں سے چند ایک نے اپنے فرائض منصبی کے ساتھ ساتھ ہمہ جہتی خدمات سرانجام دیئے۔ حکیم بلوچ بھی ان ہمہ جہتی کرداروں میں سے ایک ہیں۔بچپن میں وہ اپنے مذہبی ننہیال کے زیر اثر پلے بڑھے، زمانہ طالب علمی میں طلبا سیاست سے منسلک ہوکر متحرک رہے، حصول تعلیم کے دوران علم و ادب کے درخشاں ستاروں کے کارواں کا حصہ بنے، ملازمت کی ابتدا ریڈیو میں مترجم کی حیثیت سے ہوئی پھر جلد ہی”الس” نامی رسالے کے مدیر کے بنے تو تحریر کا باقائدہ آغاز کرکے بلوچی ادب کی آبیاری کے کارواں میں شامل ہوئے۔ پھر وہ افسرشاہی شامل ہوکر اسسٹنٹ کمشنر سے ترقی پاتے ہوئے چیف سیکریٹری حکومت بلوچستان کے عہدے پر فائز رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ادبی سرگرمیاں تیز تر ہوئیں، متعدد کتب شائع ہوئے، صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی موضوعات پر تجزیہ نگاری کی، سیاست سے بھی شغف رکھا اور بلوچیہ کے نام سے بلوچی، اردو اور انگریزی زبان کےرسالے کی اجرا کی۔ وہ اپنے ہمہ جہتی خدمات کے باعث بلوچستان کے طول وعرض میں پہچانے جاتے ہیں۔
وہ 25 دسمبر 1942 کو پنجگور کے قصبے گرمکان میں کلمتی قبیلے کے صاحبدادزئی طائفے کے چشم و چراغ اورمکران ملیشیا کے کوٹ حوالدار میر نورمحمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا تاہم ان کا ننہیال ایک مذہبی کنبہ تھا۔ ان کے ماموں مولوی عبدالواحد ایک بلند پایہ علمی و دینی شخصیت تھے۔ وہ خود اپنے تحاریر میں اقرار کرتے ہیں کہ ان کے معلم اوّل وہی رہے۔ ابتدائی تعلیم کے دوران بھی وہ صبح کے وقت اسکول جاتے اور شام کو اپنے ماموں کے ساتھ پڑھتے۔ انہوں نے میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کیا پھر حصولِ تعلیم کے لئے کوئٹہ ، کراچی اور برمنگھم تک کا سفر کیا۔ جامعہ کراچی سے علم سیاسیات میں ماسٹر اور جامعہ بلوچستان کوئٹہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
دوران تعلیم وہ طلبا سیاست میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے اور کوئٹہ میں دورانِ تعلیم وہ 1962 سے 1963 تک بلوچ طلبا تنظیم "ورنا وانندہ گل” کے صدر رہے اورپھر کراچی میں دورانِ تعلیم 1965 سے 1966 تک بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر رہے۔ وہ بلوچ طلبا سیاست کے ابتدائی سرخیلوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بلوچی اکیڈمی کے رکن بھی رہے۔
حصولِ تعلیم و ابتدائی ملازمت کے دوران بلوچستان کے علمی و ادبی سرخیلوں عطا شاد، صدیق آزات، امان اللہ گچکی، صورت خان مری، کریم دشتی، ڈاکٹر نعمت اللہ دشتی، غلام محمد شاہوانی، میر گل خان نصیر، میر مٹھا خان مری، ملک محمد پناہ، سردار خان گشکوری، محمد حسین عنقا، بشیر احمد بلوچ، غوث بخش صابر، عبداللہ جان جمالدینی ودیگر نامور ادبا اور قلمکاروں کی طرح بلوچی ادب کی ترقی و ترویج کے ابتدائی کارواں کا حصہ بن گئے اور پروفیسر کرار حسین جیسے نامور استاد ، ادیب، دانشور اور مفکر کے زیر سایہ اپنی علمی وادبی پیاس بجھانے کی بھرپور کوشش کی۔محققین لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا جب وہ بلوچی ادب میں جدید خیالات اور رجحانات کو روشناس کرتے ہوئے تخلیقات کو درست سمت دینے کی کوشش ہورہی تھی اور مستقبل کے ادیب، دانشور، محققین ، اساتذہ اور طلبا کے لئے میں نئی راہیں متعین کی جا رہی تھیں۔ حکیم بلوچ صحبت یاراں سے اثراندازہوکر انہی پیراہوں پر چل کر نصف صدی تک نثر نگاری، ترجمہ نگاری، ڈرامہ نگاری، تجزیہ نگاری، تنقید نگاری، تحقیق و دیگر اصناف میں کامیابی سے اپنا زورِ قلم آزماتے رہے۔
انہوں نے ملازمت کی ابتدا 1963 میں سینٹرل نیوز آرگنائزیشن کے زیر سایہ ریڈیو پاکستان میں بلوچی خبر وں میں مترجم کی حیثیت سے کی۔ پھر سینٹرل نیوز آرگنائزیشن کی جانب سے شایع ہونے والے سرکاری رسالے "ا±لس” کے مدیر بنے۔ اس کے بعد پی سی ایس کےامتحان پاس کرکے افسر شاہی کے میدان میں رکھا اور اسسٹنٹ کمشنر بنے پھر ترقی پاکر خضدار اور لورالائی میں ڈپٹی کمشنر خضدار، محکمہ صحت میں ڈپٹی سیکریٹری، محکمہ بلدیات کے ڈائریکٹر، بلوچستان انٹیگریٹڈ ایریا ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ، کوئٹہ، سبی اور ڑوب ڈویڑن میں کمشنر، ایس اینڈ جی اے ڈی، داخلہ، تعلیم کے سیکریٹری کے فرائض سرانجام دینے کے بعد وہ 24 دسمبر2002 کو بلوچستان کے چیف سیکریٹری کی ذمہ داریاں نبھا کر ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔
انہوں نے بلوچی، فارسی، اردو اور انگریزی زبان میں کتب لکھ کر ادب کی آبیاری کی اور ان کے علمی اور ادبی خدمات کاسفر بھی لگ بھگ نصف صدی پر محیط ہے۔ اپنے استاد عبدالواسع حزین لکھنوی کی سرپرستی میں ادبی سفر کا آغاز کیا اور دورانِ ملازمت جب ترجمہ اور نشر و اشاعت سے منسلک ہوئے تو تحریر سے جڑ گئے۔ ان کی ترقی یافتہ زبانوں کے افسانہ نگاروں کے منتخب افسانوں کے تراجم پر مبنی پہلی کتاب "گچین آزمانک” یعنی منتخب افسانے بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کی جانب سے 1970 میں شایع ہوئی، اس کے بعد فرانسیسی ناول نگار والٹیئر کے ناول "Candide” کا ترجمہ "کاندیت "کے نام سے بلوچی اکیڈمی کی جانب سے شایع ہوئی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے کتب شایع ہوتے رہے جن میں ان کے افسانوں پر مبنی کتاب "روح جتیں ارواح” 2008 میں بلوچیہ لوزانک پبلی کیشنز کوئٹہ، افسانوں اور ریڈیو ڈراموں پر مبنی کتاب "آسءِ چہر” 2000 میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ ، تنقیدی مضامین پر مبنی کتاب
"سنگِ گراں” 2001 میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ، ان کے انگریزی کتب میں ان کے انگریزی افسانوں کی کتاب کوبراز ووٹِو کِس "Cobra’s Votive Kiss” 2000 میں، ادبی مضامین پر مبنی کتاب ٹیئرز آف ریسرکشن "Tears of Resurrection” 2000 میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ، جبکہ ان کے افسانوں کی ایک اور کتاب سلور فوٹڈ ڈان "Silver Footed Dawn” زیر طبع ہے۔ جبکہ ان کے اردو کتب میں عطا شاد کے بارے میں کتاب "شبیہ شاد” 1999 میں قلات پبلشرز کی جانب سے شایع ہوا، ادبی اور تنقیدی مضامین پر مبنی کتاب "ماتمِ دانش” 2001 میں پاکستانی ادب کراچی ، قبائلی سماج کے مختلف پہلووں کے جائزے پر مبنی کتاب "زیرسایہ خورشید” 2004 میں انتخاب پبلی کیشنز، تاریخی اور تحقیقی تجزِئے پر مبنی کتاب ” بلوچ قومیت، خانیت و سرداریت” 2007میں گوشہ ادب کوئٹہ، بلوچستان کے سلگتے مسائل ، علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر شایع تجزیات پر مبنی کتاب ” عوامی دکھ کا سفر” 2008 میں سیلز اینڈ سروسز کوئٹہ کی جانب سے شایع ہوا جبکہ اردو افسانوں پر مبنی کتاب "خواب پیام پیمان” منتظر اشاعت ہے۔
ان کے متعدد کتب کو بہترین کتاب کے ایوارڈ ملے ، جبکہ متعدد علمی و ادبی تنظیموں کی جانب سے ان کے ادبی خدمات کو سراہا گیا اور شیلڈ پیش کئے گئے۔ ان کے کچھ کتب بلوچستان کے مختلف جامعات کے بیچلر اور ماسٹر ڈگری کے نصاب کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ادبی کاوشوں کے اقرار کے لئے بلوچستان صوبائی حکومت کی جانب سے 2009 میں "مست توکلی ایکسیلینس ایوارڈ” سے نوازا گیا اور 2010 میں حکومت پاکستان کی جانب سے "تمغہ امتیاز ” سے نوازا گیا۔
دوران ملازمت انہوں صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کی۔ انہوں نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن، ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن، ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن، ساوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن، سارک رائٹرز کانفرنس ودیگر بین الاقوامی اداروں کے شعبہ جاتی اجلاس اور علمی ، ادبی تقریبات میں شرکت اور ذاتی سفر کے غرض سے اٹلی، افغانستان، امریکہ، ایران،بحرین، برطانیہ، بنگلہ دیش، ترکی، تھائلینڈ، جرمنی سعودی عرب، سنگاپور، کویت، فرانس، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، نیپال، ہندوستان اور یونان وغیرہ کا سفر کیا۔
ان کے علمی اور ادبی خدمات پر نامور دانشوروں ، ادبا، شعرا اور تجزیہ نگاروں کے مقالے، تبصرے اور تجزئے مختلف اخبارات، رسائل اور مجلوں کا زینت بنے۔ ان میں فہمیدہ ریاض، اکبر بارکزئی، مستنضر حسین تارڑ، مجاہد بریلوی، بیرم غوری، ڈاکٹر علی دوست بلوچ، حمید اختر، سلطان محمود نیازی، راحت ملک، دانیال طریر، عرفان الحق صائم قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ محمد یٰسین بلوچ نے ان کی” فن و شخصیت” پر ایک کتاب مرتب کیجو بلوچیہ لوزانک پبلیکیشنز کی جانب سے 2011 میں شایع ہوئی۔
٭٭٭


