پاکستان کا عدالتی نظام بالادست اور طاقت ور قوتوں کے تابع ہے،نیشنل پارٹی پنجگور

پنجگور(نمائندہ انتخاب)نیشنل پارٹی ضلع پنجگور کے صدر حاجی صالح محمد بلوچ نے کہاہے کہ 75 سال گزر جانے کے باوجود نہ یہاں کے حکمرانوں اور نہ ہی اس ملک کے انصاف کے دعوداروں عدلیہ کی رویہ میں بلوچستان اور بلوچ قوم کے بارے میں پالیسی اور رویہ تبدیل ہوئی ہے مولانا ہدایت الرحمن کے ضمانت کی درخواست سیشن کورٹ گوادر کے عدالت سے متواتر ریجیکٹ ہونے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام بھی بالادست اور طاقت ور قوتوں کے تابعداری کررہے ہیں جو کھبی ہمارے عدالتی نظام آزاد دیکھائی نہیں دیتا ہے انہوں نے کہاکہ ثبوت اور گواہ نہ ہونے کے باوجود مولانا صاحب کو بغیر کسی ثبوت کے پابند سلاسل کرکے ضمانت کو نامنظور کرنا ظلم جبر اور ناانصافیوں کی انتہاء اور عدالتی نظام کیلئے سوالیہ نشان ہے عالمی برادری سمیت انسانی حقوق کے تنظیموں کو اس بے بس نظام اور بلوچوں سے نفرت کا ضرور سوچنا ہوگا اگر بلوچ ظلم جبر ناانصافی سے تنگ آکر آواز اٹھاتے ہیں تو انھیں غدار ملک دشمن کے لقابات سے نواز کر عقوبت خانوں میں ڈال دیتے ہیں انہوں کہاکہ مقتدر قوتوں کے لاڈلے عمران نیازی عدالتی نظام کی دھجیاں اڑا تھے ہوئے جج سمیت عدالت کو گالیاں دیتی ہے اور برملا عدالتوں میں پیش ہونے سے انکاری ہے اور کرتا آرہی ہے اور کہیں بار توہین عدالت کے مرتکب بھی ہوا ہے لیکن ویڈیو لینک سمیت عمران خان کے حاضری سپریم کورٹ کی گیٹ کے باہر گاڈی میں بیٹھے ہوئے وینڈ اسکرین کے اندر سے دستخط کیا جاتا ھے اور انھیں ہر قسم کی ریلیف مل جاتا ہے لیکن ایک بلوچ رہنما مولانا ہدایت الرحمن جوکہ حقوق اور روزگار کیلئے سڑکوں پر نکل کر مظلوموں کی آواز بن کر مظاہرہ کیا جاتا ہے تو اس بچارے کو مجرم قرار دے کر گزشتہ تین مہینے سے قید کیا ہوا ہے اور انھیں قانونی حق بھی نہیں دیا جارہا ہے جوکہ ظلم جبر بدنیتی اور ریاستی نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہے دنیا کے سامنے یہ ایک عجیب ملک ہے اور یہاں عجیب نظام چلتا ہے یہاں بالادست اور طاقت ور قوتوں کیلئے الگ نظام اور مظلوم طبقے کیلئے الگ قانون نافذ ہے ایک بلوچ رہنماء نے حق روزگار اپنی ساحل کی دفاع کیلئے آواز بلند کیا طاقت ور حکمرانوں اور انکے کاسہ لیسوں نے حق کی آواز کو خاموش کرانے کیلئے ایک رہنما کو بغیر کسی جرم کے قید میں ڈالا ہے نیشنل پارٹی مطالبہ کرتا ہے کہ فل فور مولانا ہدایت الرحمن کو انصاف کے تقاضے پورا کرکے رہا کیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں