پشتون افغان وطن کو ایک فرضی خط کے ذریعے تقسیم کیا گیا، پنجابی انگریزوں کی جان نشینی کا حق ادا کر رہے ہیں، خوشحال خان کاکڑ

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) انگریزوں کی جانب سے پشتون افغان وطن کو تقسیم کرنا تو قابل فہم ہے مگر انگریزی استعمار کے چلے جانے کے بعد پشتونوں کو تقسیم رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انگریزوں کے گدی نشین اور جان نشین بن کر شرمناک کردار ادا کرنے والے پشتون افغان کے غیظ وغضب سے بچ نہیں سکیں گے ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے ضلع قلعہ سیف اللہ سے منسلک سوری مہترزئی علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس دوران علاقائی کانفرنس کے مندوبین نے نئے ایگزیکٹیوز کا انتخاب کیا اور نومنتخب عہدیداروں سے نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا جبکہ اس موقع پر صوبائی صدر ایم پی اے نصراللہ خان زیرے، صوبائی سینئر نائب صدر اللہ نور چیئرمین، صوبائی سیکریٹری اطلاعات زمان خان کاکڑ، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری سعید اکبر کاکڑ اور سردار اللہ یار جوگیزئی نے بھی خطاب کیا۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ انگریزی استعمار نے ہزاروں میل سے آکر ہمارے وطن پر قبضہ جمایا اور ہماری آزادی چھین کر ہمارے وسائل کی لوٹ شروع کی اور ہمارے سارے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق پامال کیے۔ انگریزوں کی اس استعماری قبضے کے خلاف ہمارے عوام اور سیاسی اکابرین نے بھرپور سیاسی جدوجہد اور مزاحمت کی اور انگریزوں کو بشمول جنگی محاذ پر شکست سے دوچار کیا لیکن انگریز چونکہ مکاری، فریب اور سازشوں میں ماہر تھے اس لیے انہوں نے مختلف حیلے بہانوں اور قسم قسم کے توضیحات پیش کرکے پشتون افغان وطن کو ایک فرضی خط کے ذریعے تقسیم کیا۔انگریزوں کی مخاصمت، دشمنی اور انتقام میں افغان وطن کی تقسیم تو سمجھ میں آنے والے اقدامات تھے لیکن انگریزی استعمار کے چلے جانے کے بعد اس تقسیم کو برقرار رکھنے کے پیچھے کونسے محرکات تھے اور کون اس مکروہ عمل میں شامل تھی اور پھر اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں پشتونوں کے وطن کو کیوں تقسیم رکھا گیا اور پشتونوں کے متصل علاقوں کو ایک وحدت بننے سے کس نے محروم رکھا پشتونوں کے وسائل پر کون قابض اور لوٹ کھسوٹ جاری رکھے ہوئے ہیں ،پاکستان کو حقیقی فیڈریشن بنانے کی راہ میں کون رکاوٹ ہے اور پاکستان کو قوموں کے قیدخانے میں کس نے تبدیل کیا ہے۔اب ہمارے غیورعوام کو بخوبی علم ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پنجابی استعمار انگریزوں کا گدی نشین بن گیا ہے اور انہوں نے ہی اب تک انگریزی استعمار کی پالیسیوں کو دوام دے کر انگریزوں کی جان نشینی کا حق ادا کر رہے ہیں اور اس ملک کو سیاسی، انتظامی، معاشی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر ڈبو رہے ہیں اورجمہوری آوازوں کو سننے اور اس پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں اور ساتھ ہی اس ملک میں آباد پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی قوموں کو اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ آخر کار بنگالیوں کی طرح قدم اٹھا کر اپنے قسمت کا فیصلہ خود کریں۔
ایک ایسے راہ کا انتخاب یقینا پاکستان کیلئے نیک شگون نہیں لہذا اب بھی وقت ہے کہ پنجابی استعمار سازشوں، فریب اور اقوام اور عوام دشمن پالیسیوں اور اقدامات سے توبہ کرکے پاکستان کو حقیقی فیڈریشن بنانے کا فی الفور اور بلاتاخیر آغاز کرے۔ پاکستان میں مسلسل ناانصافیوں اور محرومیوں کی وجہ سے محکوم قوموں اور بالخصوص پشتون قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اب مزید قومی غلامی، وسائل کی لوٹ کھسوٹ، مسلط دہشتگردی اور تیسرے درجے کی شہری کے حیثیت سے جینا ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ اگر ان حالات کا ادراک اور محرومیوں کا ازالہ نہ کیا گیا تو اس ملک کے وجود کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا اور ہر قسم کے حالات کی تمام تر ذمہ داری استعماری قوتوں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں