بلوچستان میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے،پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا آغاز مثبت پیش رفت ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

کوئٹہ(انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکز ی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا آغاز مثبت پیش رفت ہے، ملک میں پارلیمنٹ کی بالا دستی اور عدلیہ کا آئینی کردارہونا چاہیے، سیاستدانوں کو آپس میں بات چیت کرنی چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا حل نکالا جاسکے، بلوچستان میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے، بلوچستان اور ملک بھر میں اگر 2018کی طرح انتخابات میں انجینئرنگ کرنے کی کوشش کی گئی تو اسکا نقصان فیڈریشن کو ہوگا، اداروں کی سیاست سے کنارہ کشی باتوں کی حد تک ٹھیک ہے عملاً نہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں آغا زین شاہد شاہ کی اپنے ساتھیوں سمیت نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی، جان محمد بلیدی، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، میر رحمت صالح بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ تنازعات کے بجائے افہما م و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کو مثبت سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ ہے لیکن اب تک آئندہ انتخابات پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے لڑنے کی کوئی تجویز نہیں آئی جب ایسی کوئی تجویز آئے گی ہم اپنی رائے اس پر رکھیں گے پنجاب کے 19اضلاع میں ہماری تنظیم موجود ہے ہم وہاں بھی مظلوم طبقات کو اکھٹا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری انداز میں غیر جانبدارنہ انتخابات ہوں اگر بلوچستان میں ایسے دو سے تین انتخابات ہو جائیں تو نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی کھیپ اسمبلی میں ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بطور ڈاکٹر میری رائے ہے کہ انفکیشن کسی بھی وقت پھیل سکتا ہے منکی پاکس کو سیاست سے جوڑنا درست عمل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اسی دن سے انتخابات کی تیاریاں شروع کردی تھیں جس دن ہم ہارے یا ہروائے گئے تھے ہم جاگیر دار نہیں عام لوگ ہیں ہم نے تنکے تنکے کو اکھٹا کر کے درخت بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالا دست ہے جبکہ عدلیہ کا اپنا کردار ہے آج ملک میں سیاستدان، ججز اور معاشرہ تقسیم کا شکار ہیں مہنگائی آسمان پر ہے مگر سب خاموش ہیں ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا سیاستدانوں کو آپس میں بیٹھنا چاہیے۔بلوچستان حکومت سے متعلق سوال پر نیشنل پارٹی کے صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان میں کوئی حکومت ہی نہیں ہے اگر حکومت نہیں ہوتو کس کی کارکردگی پر بات کریں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو آگاہی فراہم کریں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی کی جرات نہیں ہے کہ وہ نیشنل پارٹی کو سگنل دے اگر ہم سگنل کے مطابق آتے تو 2002اور 2018میں ہمیں آؤٹ نہیں کیا جاتا ہم ہمیشہ اپنے بل بوتے پر منتخب ہو کر آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے ٹرانسفر پوسٹنگ ہوتی ہے اور وہ سلسلہ اب شروع ہوچکا ہے حکومت اور اداروں نے اگر 2018کی طرز پر انتخابات انجینئر کر نے کی کوشش کی تو اس سے فیڈریشن کو نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اداروں کی سیاست میں عدم مداخلت باتوں کی حد تک ٹھیک ہے مگر عملاًایسا نہیں ہے۔ انہں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی خواہش ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی کو دوبارہ فعال کر یں پارٹی اپنی منزل کی جانب گامزن ہے آج نیشنل پارٹی میں ہر قوم اور مذہب کے باشندے موجود ہیں کوئٹہ میں بھی پارٹی مضبوط ہورہی ہے ہم عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں اور تمام طبقات کے انسانی اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں ہم جمہوری انداز میں پاکستان اور بلوچستان کے عوام کو جوڑ رہے ہیں ملک میں اس وقت سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے ہم سیاست برائے سیاست نہیں بلکہ سیاست برائے سماجی تبدیلی کر رہے ہیں ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ظلم اور استحصال نہ ہو۔ اس موقع پر آغا زین شاہد نے نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ عام لوگوں کی خدمت کی ہے ہم مسائل پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ انکے حل کے لئے بھی کوشش کریں گے اور اس عمل کے لئے نیشنل پارٹی بہترین پلیٹ فارم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں