بھارت: ڈھائی ہزار سے زائد غیر ملکی تبلیغی اراکین پر پابندی

نئی دہلی:بھارتی حکومت نے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرونی ممالک کے ڈھائی ہزار سے بھی زیادہ افراد کے بھارت میں داخلے پر آئندہ دس برس کے لیے پابندی لگا دی ہے۔بھارتی حکومت نے تبلیغی جماعت کے غیر ملکی اراکین پر ویزا ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر بھارت میں داخلے کے لیے دس برس کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن تبلیغی جماعت سے وابستہ قانونی ماہرین نے بیرونی ممالک کے تبلیغی جماعت کے اراکین پر ویزا کے غلط استعمال کے حکومت کے الزام کو بے بنیاد بتاتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرونی ممالک سے بھارت میں بیشتر مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے لوگ سیاحتی ویزے پر ہی آتے ہیں اور اس سلسلے میں موجودہ حکومت مسلمانوں کے ساتھ تفریق برت رہی ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ نے بیرونی ممالک سے بھارت آنے والے ان افراد کے پاسپورٹ کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے بھارت میں آکر تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ ایسے افراد سیاحت کے ویزا پر بھارت آئے تھے اور اس کے تحت مذہب کی تبلیغی سرگرمیوں میں ان کی شرکت غیر قانونی ہے۔وزارت داخلہ نے ایسے دو ہزار 550 افراد کی فہرست تیار کی تھی، جو اس کے بقول، کورونا وائرس وبا کے لاک ڈاؤن کے دوران بھارت میں تھے اور ایک اہم فیصلے کے تحت انہیں بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ اس میں انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے تقریبا 47 ممالک کے شہری شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں