انتخابات کے انعقاد سے فرار آئین اور جمہوریت سے بغاوت ہے، جماعت اسلامی
اسلام آباد،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیاسی انتخابی امور قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ نتخابات کے انعقاد سے فرار آئین، جمہوریت اور جمہور کے حق سے بغاوت ہے۔ اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور راولپنڈی میں انتخابی کنونشنز اور مشاورتی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں مولانا ہدایت الرحمن کی گرفتاری جرمِ بے گناہی میں ہے۔ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی پاداش میں سیاسی اسیر ہیں۔ عدالتی مراحل میں انصاف کے حصول میں تاخیر ضرور ہے لیکن مولانا ہدایت الرحمن انشااللہ رہا ہوں گے اور عوامی جذبات کی طاقت ور آواز بنے رہیں گے۔ گوادر میں حق دو تحریک ریاست، آئین، سی پیک مخالف نہیں۔ عوام اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالے اور پاک-چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ پر عمل کرے۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ اگر کسی کا کوئی جرم ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،خاندانوں کو زندہ درگور نہ رکھا جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اتحادی حکومت کی نااہلی، ناکامی اور مفادپرستی عوام اور وطنِ عزیز کے لئے ناقابلِ برداشت بوجھ بنتی جارہی ہے۔ انتخابات کے انعقاد سے فرار آئین، جمہوریت اور جمہور کے حق سے بغاوت ہے، اکتوبر 2023 تک تو ہر صورت انتخابات ہونا ہیں۔ اب ضِد، انا، ہٹ دھرمی کی آڑ میں بجٹ، مدت پوری ہونے کا بہانہ نہ بنایا جائے، سیاسی بنیادوں پر سیاسی بحرانوں کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ ریاست طاقت اور اسٹیبلشمنٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آئین اور جمہوریت قربان نہ کی جائے، حکومتی طاقت کے ساتھ پارلیمنٹ اور عدلیہ کا تصادم کھڑا کرکے دونوں آئینی قومی ادارے نقصان میں رہیں گے، فائدہ کوئی اور طاقت اٹھائے گی، مردم شماری پر اعتراضات، تحفظات صرف کراچی نہیں بلکہ پنجاب، اندرونِ سندھ اور سابق فاٹا کے اضلاع میں بھی موجود ہیں۔ بلوچستان کی آبادی میں غیرمعمولی اضافہ کا تاثر مردم شماری کے پورے عمل کو مشکوک بنارہا ہے۔ حکومت آئینی ذمہ داری پوری کرے۔


