حکومت نے 6 ماہ سے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اسد عمر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے 6 ماہ سے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، سیاسی سرگرمیاں کرنے پر مقدمات درج کرکے بے گناہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صدر اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان اور انصاف لائرز فورم کے ارکان بھی ان کے ہمراہ تھے۔اسد عمر نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر پی ٹی آئی کے 509 افراد گرفتار کئے گئے جن کا جرم عمران خان سے محبت تھا انہیں سمجھنا چاہیے کہ گرفتاریوں اور ہراساں کرنے سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں ایک طرف وفاقی حکومت آئین و قانون کے پر کاربند ہونے کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف گزشتہ 6 ماہ سے اسلام آباد میں پر امن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے پر امن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ آئین کی ایک شق ٹوٹنے کا مطلب پورا آئین ٹوٹنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہفتے کی شام ہم سپریم کورٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لئے پر امن ریلیاں نکال رہے ہیں مگر اسلام آباد انتظامیہ ہمیں اجازت نہیں دے رہی اگر انہیں روٹ یا کسی اور بات پر اعتراض ہے تو ہم اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں ریلی کی اجازت کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ ہمیں ہمارا آئینی حق دیا جائے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کا دفاع کررہی ہے، پاکستان کے ہر شہری کو اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سپریم کورٹ سے اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے یہ کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں آئین کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے صدر اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ گارنٹی دے تو ہم آگے بڑھنے کو تیار ہیں ،پی ڈی ایم کی دونوں بڑی پارٹیوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ 2008 میں نواز شریف الیکشن بائیکاٹ کے اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے خلاف گئے زرداری نے معاہدہ کرکے کہا کہ یہ کون سی قرآن کی آیت ہے جس پر عمل ضروری ہے ۔علی اعوان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کا تھا مگر پی ڈی ایم مسلسل الیکشن سے بھاگ رہی ہے ،الیکشنز سے بھاگنے کا مطلب عمران خان کا ڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو یقینی بنانا چاہیے کہ14مئی کو الیکشنز ہوں اگر ابھی الیکشن نہ ہوا تو آئندہ کے لیے بدتر مثال قائم ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں