ڈومیسائل اور پی آر سی سے متعلق بلوچستان کا موازنہ دیگر صوبوں سے نہیں کیا جاسکتا، ربابہ بلیدی
کوئٹہ : بلوچستان میں ڈومیسائل اور پی آر سی کے اجرا سے متعلق جامع قوانین اور ضوابط کی تشکیل و ترامیم سے متعلق اعلی سطحی محکمانہ اجلاس پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی زیر صدارت منگل کو یہاں وزارت قانون میں منعقد ہوا جس میں سیکرٹری قانون عبدالصبور کاکڑ ، ایڈیشنل سیکرٹری سید نصیر شاہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر حفیظ اللہ خان نے شرکت کی اور ڈومیسائل اور پرماننٹ ریزیڈنسی سرٹیفکیٹ کے اجرا سے متعلق عدالتی فیصلوں ، بلوچستان اسمبلی کی قرارداد سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ، اجلاس کو بتایا گیا کہ اس اہم معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے مشاورتی اجلاس طلب کئے گئے ہیں جس میں جامع سفارشات مرتب کرکے ایسی مثر قانون سازی اور ضوابط وضع کئے جائیں گے جس سے کوئی بھی غیر مستحق فرد کسی بھی سطح کی ملازمتوں یا بلوچستان کے مختص کوٹے کے استحقاق سے ناجائز فوائد حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل اور پی آر سی کے اجرا سے متعلق بلوچستان کا موازنہ سندھ یا دیگر صوبوں سے نہیں کیا جاسکتا یہاں کے زمینی حقائق دیگر صوبوں سے الگ ہیں ہمیں ہر صورت شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا اور تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کسی ایسے نتیجہ خیز پوائنٹ پر پہنچیں گے جس سے اس دیرینہ مسائل کا حل تلاش کرلیا جائے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ اس اہم معاملے سے متعلق عدالت کی ہدایات کے مطابق محکمہ قانون اپنی سفارشات اور رائے پیش کرے گا اور حتی الامکان کوشش ہوگی کہ تمام طبقات کے حقوق کا قانونی تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور کسی سے ناانصافی نہ ہو ، اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور کو اسٹیک ہولڈرز اجلاس کے انتظامات سے متعلق آگاہ کیا گیا اور محکمہ قانون بلوچستان کی جانب سے اہم پوائنٹس کو حتمی شکل دینے سے متعلق مشاورت کی گئی ۔


