تیرے باپ سے بھی لیں گے آزادی، پی ٹی آئی کس آزادی کی بات کررہی ہے، بلوچستان عوامی پارٹی
کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماءوسینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ 9مئی کو سیاسی تاریخ کے سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائےگا، آج ملک میں بحث ہورہی ہے کہ چند عمارتوں پر حملہ آور ہونا اتنی بڑی بات نہیں ہے لیکن یہ ایک سنگین جرم ہے جن عمارتوں پر حملہ کیا گیا وہ پاکستان کی ریاست کا استعارہ تھیں۔ معمول کے مطابق زندگی ،سیاست اور معاشرتی معاملات کو چلانے کے لئے معاشرے میں امن و استحکام کی اشد ضرورت ہے آج ملک کے سیاست دانوں، دانشوروں، سول سوسائٹی کو مستحکم سماجی نظام کے لئے ایک ساتھ یکجا ہونا ہوگا انتشار ،طوائف الملوکی کی صورتحال کا نقصان ملک اور معاشرے دونوں کو پہنچ رہا ہے پاکستان سیاسی طور پر غیر مستحکم کی جانب گامزن ہورہا ہے بلوچستان کی سطح پر ان مذموم مقاصد کی مذمت کرتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کر تے ہیں کہ بطور بلوچستان کے شہری کے ہم پاکستان کو علامہ اقبال کے خواب اور قائد کی تعبیر کے مطابق لانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اراکین قومی اسمبلی روبینہ عرفان،صوبائی وزاءنوابزادہ گہرام بگٹی ، بشریٰ رند ، ماجبین شیران،خلیل جارج بھٹو،عارف جان محمد حسنی کے ہمراہ جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں انتشار پھیلانے والوں کی ہر قدم پر مذمت اور مزاحمت کریں گے جو لوگ 9مئی کے واقعات میں ملوث ہیں انکے خلاف 1952کے آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے اس قانون کے تحت کاروائی میں کوئی قباحت نہیں ہے یہ ریاست کا قانون ہے اور جس بھی معاملے کا تعلق براہ راست فوج سے ہو اس پر کاروائی آرمی ایکٹ کے تحت کی جاتی ہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ 2013میں2سال کیلئے بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تھیں تاکہ کرمنل جسٹس سسٹم کو بہتر کیا جائے ایسا نہیں ہے کہ سویلین عدالتیں اپنا اعتماد کھو چکی ہیں لیکن عدلیہ میں ایک واضح تفریق نظر آتی ہے اور ایک فریق جسے عدلیہ سے رعایت مل رہی ہے پر دوسرے فریق کا شکوہ ہے کہ انکے ساتھ انصاف نہیں ہورہا ۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ رکن اسمبلی بننے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کے پاس قانون ہاتھ میں لینے کا لائسنس آجائے اگر پی ٹی آئی رہنما ءمبین احمد خلجی 9مئی کے واقعات میں ملوث تھے تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہےے بلوچستان عوامی پارٹی بطور سیاسی جماعت کے صورتحال کو دیکھ رہی ہے ۔اگر وہ کسی بھی غلط اقدام میں ملوث نہیں تو اُن پر کاروائی نہیں ہوگی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن لوگوں پر الزامات ہیں وہ کچھ حقائق کی بنیاد پر ہی لگے ہیں کیا کور کمانڈر کا گھر نہیں جلایاگیا یا دیگر املاک پر حملہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ایک دم سے جواب نہیں دیتی بردباری اور برداشت سے کام لیتی ہے لیکن ایک سال میں پی ٹی آئی نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ پی ٹی آئی کس سے آزادی لینا چاہتی تھی وہ لوگ جو کہتے تھے کہ تیرے باپ سے بھی لیں گے آزادی کس سے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے ؟ کیا ایک تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کو قبضہ گیری سے جوڑ دیا گیا۔ ایک اورسوال کے جواب میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ عمران خان سیاسی شہید ہوں گے یا نہیں فیصلہ سیاسی تاریخ کریگی وہ ہیرو بھی بن سکتے ہیں اور ولن بھی مگر قانون اپنا راستہ اختیار کریگا اور اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ،اسٹیبلشمنٹ ،عدلیہ اور میڈیا کے ایک حصے نے عمران خان کو بنایا میں انکی نہیں بلکہ عمران خان کی مذمت کرونگا کیونکہ مجھ سمیت عوام اور دیگر لوگوں نے عمران خان کو بہتر گورننس ، خارجہ پالیسی کوعام لوگوں کے مفاد میں استعمال سمیت مسائل کے حل کے لئے ووٹ اور ساتھ دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو یکا یک ختم کرنا ممکن نہیں ہے اس کے لئے سیاسی حکمت عملی چاہےے ناکہ سلطان راہی یا مولہ جٹ فارمولے اورطاقت کے استعمال کے فارمولے ناکام ہوچکے ہیں سیاست دانوں کو خود ہی بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا سیاسی جماعتوں کو چاہےے کہ وہ ریاست کے فرائض کی ادائےگی میں اپنا کردار ادا کریں ۔تاکہ ان مسائل کے حل کو ممکن بنایا جاسکے جو ملک اور قوم کو درپیش ہیں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ حملے کر کے فتح کرلیں گے تو یہ نہیں ہوسکتا 9مئی کو ریاست اگر طاقت کا استعمال کرتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا ۔اور آج ریاست کی پالیسی سے سب متفق ہیں کہ زیادہ نقصان نہیں ہونے دیا انہوں نے کہا کہ مجوزہ قوانین کے تحت کسی فرد یا جماعت پر پابندی لگتی ہے وہ ہونا چاہےے ۔انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمشنر نہیں ہیں انہیں نہیں معلوم کہ اس سال انتخابات ہونگے یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ 1971کے واقعات دوبار ہ ہونگے یہ 2023ہے اور اس میں ایسا کرنا ناممکن ہے اس موقع پر مشیر ایس اینڈ جی اے ڈی ،بشریٰ رند نے کہا کہ عمران خان ایک اچھا کرکٹر ہے جو اسٹیڈیم تو بھر سکتا ہے لیکن سیاسی کھیل اور سیاست کے میدان میں وہ ناکام رہا ہے جس نے سیاست کو استعمال کرتے ہوئے ملک اور قوم کو کشکول توڑنے کا دعوہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جاکر اُسکے پاوں پکڑے اور اقتدار کی سیج پر بیٹھ کر اپنے وزراءاراکین قومی صوبائی اسمبلی سے ملاقات نہیں کرتا تھا جس بات کا اُسکی جماعت کے نمائندے برملا اظہار کرتے رہے ہیں انہوں نے اپنی سیاسی چپقلش میں اقتدار کے حصول کیلئے ملک اور قوم کو اس نہیج تک پہنچا دیا ہے جس کو آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔


