تربت، تمپ میں سرکاری اسکول کھنڈر میں تبدیل، تدریسی عمل جاری رکھنا مشکل
تربت: علاقہ شاہی تمپ میں سرکاری اسکول کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگا ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا اور درس و تدریس کا عمل آگے بڑھانا خطرناک ہو گیا ہے۔ ہائی سکول کے شعبہ پرائمری کی بلڈنگ کے چار کلاس کے کمرے کی حالت انتہائی بوسیدہ بلکہ مخدوش ہیں جن کی چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔ اِس سرکاری اسکول میں 600 طالبات زیرتعلیم ہیں۔ لیکن قیام سکول 40 سال سے مرمت نہیں کروایا جارہاہے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شائی تمپ کے ہیڈمسٹریس کا کہناہے کہ کئی بار محکمہ تعلیم کو شکایت کی گئی ہے لیکن اب تک شنوائی نہیں ہوئی ہے،جب یہاں سے منتخب نمائندے نے الیکشن جیتنے سے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ اسکول کو از سر نو تعمیر کرایا جائے گا لیکن منتخب ہونے کے بعد کال اٹینڈ نہیں کی جارہی ہے۔ علاقے کے کونسلرز عبدالغنی اور کونسلر خان محمد جان گچکی نے بتایاکیا۔جبکہ ڈی ای او کیچ منظور احمد بلوچ نے کو بتایا کہ اس اسکول کی تعمیر کے لیے خط لکھ چکے ہیں۔ جلد اسکول کا کام ہوجائے گا اور بچیوں کو سہولیات دی جائیں گی۔


