پشتون اور بلوچ مظالم کا شکار ہیں، بلوچستان میں 5 انسر جنسیاں ہوئیں، لوگ شوق سے پہاڑوں پر نہیں جاتے، اسد بلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی صدر راجی راہشون فرزند بلوچستان صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہاہے کہ بگڑتی ہوئی معاشرے کی بہتری کیلئے 2 کروڑ بلوچستانیوں کو اتحاد واتفاق کامظاہرہ کرناہوگا، پاکستان میں نظام نہیں ہے ،لوگ اپنی صحت،تعلیم ،امن وامان کا خود ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ریاستیں ذمہ دار ہوتی ہے ،پاکستان نے جتنے قرض لئے ہیں اس کا ایک فیصد بھی بلوچستان میں استعمال نہیں ہواہے ، لوگ شوق سے پہاڑوں پر نہیں جاتے اگر کسی کے پاس روزگار نہیں تو چوری کریں گے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزگار فراہم کرے۔ بلوچستان میں ساڑھے تین لاکھ سرکاری ملازمین ہیں باقی لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں کالجز و جامعات خالی ہو رہے ہیں لوگوں کا رحجان ذمباد کی طرف بڑھ رہا ہے سحاق ڈار کچکول لیکر دنیا کے چکر لگا کر آیا تو کہتا ہے کہ ہماری حالت برابر ہیں اس وقت پاکستان ڈیفالٹ ہیں پاکستان بین الاقوامی چیلنجوں سے الگ تھلگ نہیں ہو سکتا بھوک افلاس کیلئے 75 سال میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے،آفیسران کے مسائل کے حل کیلئے جہد مسلسل جاری ہے البتہ انہیں بھی ذمہ داری کااحساس کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بلوچستان ایگریکلچر آفیسرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مقامی ہال میں ملازمین آفیسرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرصوبائی سیکرٹری زراعت امید علی کھوکھر، صوبائی سیکرٹری تعلیم عبدالرﺅف بلوچ، بلوچستان ایگریکلچر آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ، جنرل سیکرٹری میر شکیل زہری، ڈائریکٹر جنرل ایکسٹینشن عرفان علی بختاری، ڈائریکٹر جنرل واٹر مینجمنٹ علی رضا جمالی، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ انعام الحق، پرنسپل بلوچستان ایگریکلچر کالج محمد اسلم نیازی، بی این پی عوامی کے لیبر سیکرٹری ڈاکٹر عبید، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر انجینئرنگ بشیر آغا،سابق ڈی جی واٹر مینجمنٹ عبدالوہاب کاکڑ، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے وائس چیئرمین انجینئر ناصر مجید، زمیندار ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری حاجی عبد الرحمن بازئی، عطا محمد ترکئی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس سے قبل بلوچی پگڑی، شال تحفے میں دی گئی۔ صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ آفیسران کے چہرے کی خوشی دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے میں ہمیشہ روشنی کا ساتھی ہوں بلوچستان، یہاں کی عوام اور ملازمین کی خاطر جہد مسلسل کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک مضبوط ذہن اور شعور والے لوگوں کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ 22 کروڑ کے اس ملک میں حقوق غضب کرنے کا بیوروکریسی و حکمرانوں کو شوق ہوتا ہے 22 میں 9 کروڑ کا نظام تباہ حال ہے تعلیم، صحت کے بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ انسان کی زندگی کے دو پہلو ایک اپنی پیٹ اور دوسرا دوسروں کیلئے سوچتے ہیں۔ وگرنہ جانور بھی تو اپنی خوراک کی تلاش کرتا رہتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہیں وسیع سوچ جانچنے پرکھنے اور سمجھنے کیلئے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سسٹم غائب ہے لوگ اپنی صحت تعلیم تحفظ کا ذمہ دار خود ہوتے ہیں ہمیں مل کر سسٹم بنانے کی ضرورت ہے بحیثیت بلوچستانی سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے اس صوبے کو ہر قدرتی نعمت سے نوازا ہے ایسے بھی ممالک ہیں جنہوں نے ایک سمندر کے رہتے ہوئے ترقی کرلی۔ ہم آج بھی 200 سال پیچھے ہیں ہمارے سوچ محدود ہونے کے انداز ہمیں مار رہی ہے اگر یکساں سوچ اپنائیں تو ترقی مقدر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آباد پشتون اور بلوچ دونوں مظالم کے شکار ہیں کونسے سیاست دان ہیں جو ان کو تقسیم کرتے ہیں۔ بلوچستان کو خوبصورت اور ماحول کو پاک و صاف دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں دور کا سوچ رکھتا ہوں اب آپ کی جو ذمہ داری ہے ان کو پوری کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس بگڑے ہوئے معاشرے کو سلجھانے کیلئے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن وہ نبھایا نہیں جا رہا۔ ہر آفیسر کو اپنے ساتھ وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے ایک یتیم بچے کو تعلیم دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بین الاقوامی طور پر معاشی بحران کے اثرات مرتب ہوئے ہیں گزشتہ 75 سالوں میں یہاں کوئی پالیسی نہیں بنی آئی ایم ایف کے قرض یہاں استعمال نہیں ہوئے۔ پاکستان نے ہر ملک سے قرض لئے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر قرض کا ایک فیصد بلوچستان کو نہیں دیا گیا۔ سیندک سے قرض کو ایڈجسٹ کرنے کا کہا کا رہا ہے کیا یہ سر زمین یتیموں کی ہے۔ آج فورٹائر سروس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا بھی اہم کردار ہے جب میر عبدالقدوس بزنجو کے پاس گیا تو انہوں نے انکار نہیں کیا زمینداروں کے 300 ارب کے نقصانات ہوئے جب مرکز سے رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ 16 ارب دئیے جائیں گے وہ بھی کم ہو کر 8 پھر 2 تک پہنچ گئے لیکن اب تک ایک روپیہ بھی نہیں مل سکا۔ مرکز کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا گیا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں دیگر صوبوں پر کٹ لگ سکتا ہے لیکن بلوچستان پروٹکڈ ہیں بلوچستان کو مرکز کی جانب سے 17 ارب نہیں دئیے جا رہے۔ مرکز کے اوپر 50 ارب سے زائد واجب الاادا ہیں لیکن دئیے جا رہے۔ صرف آفیسر نہیں بلکہ بلوچستانی ایک ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے نصیر آباد اور قلعہ سیف اللہ میں جو اعلانات ہوئے کیا ان پر عمل درآمد ہوا۔ جو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں وہ ہمیشہ جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ ظاہر کی گئی ہے اسحاق ڈار اور احسن اقبال کہتے ہیں کہ یہ غلط ہوا ہے۔ بوگس آبادی بنا کر وسائل لوٹے جا رہے ہیں کیونکہ یہاں وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جا رہی تھی۔ بنگلہ دیش الگ ہو گیا تو پھر وسائل رقبے کی بجائے آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا۔ بجٹ کا آدھا حصہ پنجاب جا رہا ہے۔ لوگوں میں شعور بیدار ہو رہی ہے نوآبادیاتی اور کالونیل نظام کو بدلنا ہوگا۔ بلوچستان میں 5 انسرجنسیاں ہوئیں لوگ شوق سے پہاڑوں پر نہیں جاتے اگر کسی کے پاس روزگار نہیں تو چوری کریں گے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزگار فراہم کرے۔ بلوچستان میں ساڑھے تین لاکھ سرکاری ملازمین ہیں باقی لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں کالجز و جامعات خالی ہو رہے ہیں لوگوں کا رحجان ذمباد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے الیکشن میں مداخلت بند ہونی چاہیے اگر اسمبلی میں پیراشوٹ یا 50 کروڑ جائیں گے تو وہاں قانون سازی نہیں ہوگی۔ میرا چیلنج ہے کہ کوئی بھی میرے اوپر ایک ٹکہ ثابت کرے۔ اس سر زمین کے اصل وارث یہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنگ نظری کا خاتمہ کرکے وسیع سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسحاق ڈار کچکول لیکر دنیا کے چکر لگا کر آیا تو کہتا ہے کہ ہماری حالت برابر ہیں اس وقت پاکستان ڈیفالٹ ہے پاکستان بین الاقوامی چیلنجوں سے الگ تھلگ نہیں ہو سکتا بھوک افلاس کیلئے 75 سالوں میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں