کسٹمز کوئٹہ کی سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کی وضاحت، اسمگلروں کیخلاف کارروائیوں پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، ترجمان

کوئٹہ: پاکستان کسٹمز کوئٹہ کے میڈیا سیل نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر چلنے والی نیوز کی وضاحت کر تے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کردی۔ گزشتہ روز تقریبا رات 11 بجے کسٹمز اسٹاف رکھنی حسب معمول ڈیوٹی پر تھے اور معمول کے مطابق گاڑیاں چیک کر رہے تھے دو نوجوان موٹر سائیکل پر آئے اور اپنے آپ کو صحافی ظاہر کرکے کسٹم ہاوس کی بلڈنگ کی ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ان نوجوانوں کی وجہ سے کسٹمز اسٹاف کو الارٹ کردیا گیا تھا کیوں یہ ایک مشکوک کاروائی تھی نوجوانوں کو روکنے پر انہوں نے اپنے آپ کو صحافی ظاہر کیا ویڈیو بنانے کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے کسٹم حکام کو برا بھلا کہا اور وہاں سے چلے گئے کسٹم حکام کا کہنا تھا کہ واضح ملکی حالات اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کی روشنی میں سرکاری بلڈنگ کی ویڈیو بنا نا یا تصاویر لینا بغیر کسی اجازت کے کسی بھی طور پر نہیں دی جاسکتی ہے۔ کسٹم حکام کی دن رات کاروائیوں سے تنگ آکر اسمگلرز مختلف طریقوں سے سرکاری کام میں مداخلت اور بے جا الزامات پلان کے تحت لگائے جار ہے ہیں۔ واضح رہے حال ہی میں پے درپے کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے کاروائیوں نے اسمگلروں اور ان چیلوں کی زندگی اجیرن کردی ۔پاکستان کسٹمز اپنے افسران کےخلاف پروپیگنڈہ کی سختی سے مذمت کرتا ہے ۔ اور اسے کار سرکار میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔کسٹمز حکام کے خلاف دروغ گوئی سے کام لینا قابل مذمت ہے واضح رہے کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے حالیہ اسمگلنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈان اور پے درپے کاراوئیوں نے صوبے بھر میں اسمگلروں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا جس کے بعد مختلف شکلوں میں کسٹم کے خلاف پروپیگنڈہ کا اغاز کر دیا گیا۔ موجودہ عمل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم اسمگلر مافیاز کی یہ چال چیف کلیکٹر کسٹم بلوچستان محمد سلیم اور انکے ماتحت افیسران کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں