آواران میں خاتون ٹیچر کو بلیک میل کرکے خودکشی پر مجبور کرنا معاشرے کی تباہی کے مترادف ہے، نیشنل پارٹی
لسبیلہ : نیشنل پارٹی حب کا جنرل باڈی اجلاس ضلعی صدر حاجی عبدالغنی رند پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے رہنما سابق چیئرمین بی ایس او واحد رحیم بلوچ تھے اجلاس میں حب کے بڑھتے ہوئے عوامی مسائل پر سیر حاصل بحث مباحثہ،آئندہ کا لائحہ کے ایجنڈے زیر غور رہے اجلاس میں گزشتہ دنوں گیشکور آواران میں ایک خاتون ٹیچر کو بلیک میل کرکے اسے خود ک±شی پر مجبور کرانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بے رحمانہ قتل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کاروائی کرکے اس کے لواحقین کو انصاف فرائم کیا جائے اجلاس سے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی عبدالغنی رند نیشنل پارٹی کے رہنما بی ایس او کے سابق چیئرمین واحد رحیم بلوچ بلوچستان وحدت کے رکن ورکنگ کمیٹی اسد غنی رند بی ایس او کے سابق چیئرمین کامریڈ عمران بلوچ تحصیل حب کے نائب صدر مجاہد رند جنرل سیکرٹری جان محمد پلال ضلعی فنانس سیکرٹری علی دوست رند ضلعی انفارمیشن سیکرٹری جی آر بلوچ میونسپل کارپوریشن کے جنرل کونسلران حافظ رسول بخش بلوچ،ارباب علی مگسی،محمد اسحاق بلوچ،نیشنل پارٹی تحصیل حب کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عابد ملازئی رابطہ سیکرٹری میر حسن مری، نوید لاڈلہ رند,حنیف لاشاری،علی گل مگسی،علی محمد مری،کامریڈ سانوڑ، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نااہل عوامی نمائندوں کی وجہ سے حب مسائلستان کا گڑھ بن چکا ہے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں عوام گیس،بجلی،پانی سے محروم ہوتے نظر آرہے ہیں بیروزگاری عام ہوچکی ہے سینکڑوں صنعتوں کے باوجود یہاں کے بیشتر لوگ بھوک و افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے بدامنی،چوری،ڈکیتی،لوٹ مار نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے،تعلیمی نظام تبائی کے دہانے پر ہیں گورنمنٹ سکولوں کی حالت عدم سہولیات و عدم توجہی کی وجہ سے ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم کا کوئی معیار نہیں کاروباری اداروں کی شکل اختیار کرچکے ہیں حب شہر و گردنواح میں منشیات کےاڈوں کی بھرمار سے لوگوں کا چین سکون برباد ہوچکا ہے اب تک نوجوان نسل کی بڑی تعداد اس لت میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار چکے پیں موجود نسل کا روشن مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے جوکہ قوم و معاشرے کی تبائی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا حب کو مسائلستان کا گڑھ بنانے اور اس خوبصورت شہر تباہ کرنے میں بڑا ہاتھ یہاں کے کرپٹ و نااہل نمائندوں اور ان کے آشیرباد سے آنے والے بیوروکریسی و ضلعی انتظامیہ ہے جنہیں زبردستی عوام پر توپا گیا ہے بڑے افسوس کی بات ہیکہ چالیس پچاس سال سے اقتدار پر براجمان ان عوامی نمائندوں نے ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جس عوام مستفید ہو عوامی فنڈر میں بڑے پیمانے پر خرد ب±رد ہوتا نظر آرہا ہے ترقیاتی کام کرپشن و کمیشن کی نظر ہوچکے ہیں اب وقت آچکا ہے کہ ان نااہل حکمرانوں کے خلاف عوامی طاقت کو آگے آکر ان کا محاسبہ کرنا ہوگا ان سے عوام کے ایک ایک روپے کا حساب لینا ہوگا اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گے ان کے حقوق سلب کرنے والوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 11 جون بروز اتوار کو عوامی مسائل پر ایک بڑے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔


