مکران اور گوادر میں بجلی کا بحران، وزیراعظم کی ہدایت پر قومی گرڈ سے منسلک کرنے کی ہدایت

کوئٹہ : وزارت توانائی (پاور ڈویژن) حکومت پاکستان نے مکران، گوادر کے ساحلی علاقوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور مستقبل کی ضروریات کے تناظرمیں متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان کی ذاتی دلچسپی اورخصوصی ہدایات پر مکران گوادر کو قومی گرڈسسٹم سے منسلک کرنے کے لئے ایک جامع اور عمل درآمدی منصوبہ بناکر اسے کامیابی سے مکمل کرکے اسے قومی گرڈسسٹم سے منسلک کرکے باقاعدہ طورپرانرجائز بھی کردیاگیاہے۔ یہ منصوبہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی( کیسکو)کے شعبہ گرڈسسٹم کنسٹرکشن (جی ایس سی) اور گرڈسسٹم آپریشن (جی ایس او)کے انجےنئر زاور عملہ پر مشتمل ٹیموںکی انتھک محنت سے پایہ تکمیل تک پہنچاہے۔ مکران۔گوادرانٹرلنکنگ منصوبہ کے پی سی ون کو پلاننگ کمیشن سے حتمی منظوری کے بعد ایکنک نے 29اگست2019کو قومی برقی نظام سے منسلک کرنے کی باقاعدہ منطوری دی تھی ۔اس منصوبہ میںبسیمہ گرڈاسٹیشن تاناگ گرڈاسٹیشن کے زریعے پنجگور گرڈاسٹیشن کو آپس میں منسلک کرناتھا جسے کامیابی سے مکمل کرلیاگیاہے جس میں 2نئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کے علاوہ668کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر وتنصیب کاکام بھی شامل ہے۔ اس سے قبل مکران۔گوادرکو ایران کی طرف سے 132Kvجیکی گور۔مند اور حال ہی میں مکمل ہونے والی 132Kvپولان۔ جیوانی ٹرانسمیشن لائن سے بجلی فراہم کی جارہی تھی اس کے علاوہ2میگاواٹ تفتان اور2میگاواٹ ماشکیل کےلئے بھی بجلی ایران سے درآمد کی جارہی ہے۔ حال ہی میں گوادر انٹرلنکنگ کی قومی گرڈسسٹم سے منسلک اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد مکران ڈویژن کےلئے ایک اورمتبادل زریعہ میسرہوگیاہے جس سے کیچ ، تربت، گوادر اور پنجگور کے علاقوںکےلئے بلاتعطل بجلی کی فراہمی کویقینی بنایاجاسکے گا۔ علاوہ ازیں اس منصوبہ کی تکمیل سے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈرو(سی پیک CPEC)کے اہم منصوبے کی خواب کی تعبیر ہوسکے گی اور اس علاقہ میں مقامی کاروبار میں اضافہ ، صنعتی اور زراعت کے شعبے کو بھی فروغ ملنے کے علاوہ لوگوںکامعیار زندگی بلند اور بلاشبہ ترقی کے ایک نئے دور کاآغاز ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مکران۔گوادر ڈویژن کو ہمسایہ ملک ایران سے بجلی فراہم کی جارہی تھی جو کہ قومی برقی نظام (نیشنل گرڈسسٹم) سے منسلک نہیں تھا اور ایران سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیش آنے سے مکران ڈویژن کے تینوںاضلاع تربت کیچ، گوادر اورپنجگور کاعلاقہ متاثر رہتاتھا ۔تاہم اب قومی گرڈسسٹم سے منسلک ہونے کے بعد یہ مسئلہ ہمیشہ کےلئے ختم ہوچکاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں