کوئٹہ سریاب روڈ پر کنویں میں جاں بحق 4 افراد کے لواحقین کی مالی امداد کی جائے، مری قومی اتحاد

کوئٹہ (این این آئی) مری قوم کے معتبررین نے کہا ہے کہ سریاب روڈ پر دلدار کاریز کے مقام پر چار افراد کنویں میں گیس بھرنے کے باعث دم گھنٹے کے بعد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے لیکن حکومت کی جانب آج تک متاثرہ خاندان کی داد رسی نہیں کی گئی ، پی ڈی ایم اے ریسکیو کا ادارہ ہے لیکن اس کے پاس لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لئے آلات تک موجود نہیں ،سانحہ دلدار کاریز میں جاں بحق افراد کو شہید قرار دیکر انکے لواحقین کے لئے معاوضہ، تعلیم و روزگار فراہم کیا جائے ۔یہ بات مری قومی اتحاد پاک انٹرنیشنل کے چےئرمین عبدالنبی مری، بی این پی ضلع کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری، مسلم لیگ (ق) کے رہنماءشکور مری ، ٹکری شفقت مری، میر غلام علی مری، جمعہ خان مری، ڈاکٹر غلام جان مری، ملک بہرام چھلگری ، محمد خان مری سمیت دیگر نے جمعہ کو سانحہ دلدار کاریز سریاب کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب اور کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ 2جون کو کلی دلدار کاریز سریاب میں ایک ہی خاندان کے چار لوگ کنویں میں گیس بھرنے کے باعث دم گھٹنے اور ڈوبنے سے جاں بحق ہوگئے واقعہ صبح پیش آیا جبکہ 4گھنٹے تک پی ڈی ایم اے کی ٹیم موقع پر نہیں پہنچی جب ریسکیو ٹیم وہاں آئی تو ان کے اہلکاروں کے پاس آلات تک نہیں تھے جس کی وجہ سے ایک اہلکار بے ہوش بھی ہوا ۔انہوں نے کہا کہ مجبوراً کھڈ کوچہ سے لوگوں کو بلوا کر لاشوں کو نکالا گیا پولیس سمیت دیگر تمام سرکاری ادارے اس واقعہ کے وقت بے بس دیکھائی دئیے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال پی ڈی ایم اے کو اربوں روپے کا بجٹ اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال میں کاروائی کریگا لیکن اس کے برعکس پی ڈی ایم اے کے پاس بنیادی آلات تک نہیں ہیں یہ حکومت اور پی ڈی ایم اے کی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم اے کے پاس آلات ہوتے اور بروقت کاروائی کی جاتی تو آج قیمتی انسانی جانیں بچ سکتی تھیں ایک ہی گھر سے چار لاشیں اٹھنے کے بعد 14بچے یتیم ہوگئے ہیں جنکی کفالت کرنے والا صرف ایک شخص ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جاں بحق ہونے والے افراد کو شہید قرار دیکر لواحقین کو تعلی، کفالت ، روزگار فراہم کرے ۔انہوں نے کہا کہ 2جون سے آج تک حکومت کی جانب سے کسی نے بھی لواحقین سے رابطہ کر کے انکی داد رسی نہیں کی ۔ سیلاب میں بھی مری قبائل کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو ریسکیو کیا انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے کو مستحکم ادارہ بنائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں