گوادر کے علاقے دشت میں بجلی کی بحالی ممکن نہ ہوسکی، لوگ میٹرز اٹھائے ٹھوکریں کھانے پر مجبور

گوادر (انتخاب نیوز) گوادر کے علاقے دشت میں بجلی کی بحالی ممکن نہ ہوسکی، لوگ میٹرز لے کر دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور۔ سب تحصیل سنٹسر کے علاقے میرجت اور ڈومب کے لوگوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم گزشتہ 15 سال سے بجلی کی فراہمی کے دعوے پر بجلی بحالی کے منتظر رہے مگر کام سست روی کا شکار تھا۔ حال ہی میں چند علاقوں میں کھمبوں اور تاروں کی تنصیب کے معمولی سے پیشرفت کو دیکھ کر ہم لوگوں نے اپنی مدد آپ کئی جگہوں اور اداروں کے چکر کاٹ کر اپنے کام مکمل کروائے مگر بجلی کی بحالی ممکن نہ ہوسکی۔ بجلی کے بحالی میں گبد کے لوگ رکاوٹ بن گئے ہیں۔ گبد کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کھمبوں اور تاروں کی کمی کا مسئلہ ہے۔ اہالیان میرجت اور ڈومب گزشتہ 4 سال سے گبد کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بنیاد پر بجلی سے محروم رہے اور تاحال یہ مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اب جب ہم نے اپنی مدد آپ بجلی کے تمام کام مکمل کروا کر سیکڑوں گھرانوں نے میٹرز بھی خرید لیئے مگر بجلی بحالی کا رکاوٹ دور نہ ہوسکا۔ ادارہ اور گبد کے مابین جنگ کی وجہ سے اہلیان میرجت اور ڈومب بری طرح متاثر ہیں۔ میرجت اور ڈومب کے کونسلر واجل دشتی کا کہنا ہے کہ اس شدید گرمی کے پیش نظر ہم نے بجلی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کئی بار ادارہ اور گبد کے مکینوں سے التجا کیا ہے کہ وہ ہمارے بجلی بحالی کے رکاوٹ کو دور کریں تاکہ اس شدید گرمی کے موسم میں لوگ ہلکی سانسیں لے سکیں۔ ہم پھر سے متعلقہ اداروں اور گبد کے لوگوں سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کے ہمارے علاقے کی بجلی بحالی میں مشکلات کو دور کردیں تاکہ حلقے کے لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔ گبد کے لوگ ہماری مشکلات کا احساس کرکے ہمارے بجلی کو بحال ہونے دیں اور اپنا مسئلہ ادارے کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں۔ ہم نے میٹرز خرید لیے ہیں جن پر ٹیکس بھی لیے جارہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ بغیر بجلی کے میرجت اور ڈومب کے لوگ ٹیکس ادا کرتے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں