خاران میں یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے پر طالبہ کیساتھ کھڑے ہیں، سنی علما کونسل
خاران (آن لائن) سنی علما کونسل ضلع خاران کے ترجمان کی پریس ریلیز کے مطابق رخشان یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے خاران میں ہونے والے کامیاب شٹرڈاﺅن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے معماروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں پورا علاقہ تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے جرائم پیشہ بڑ رہی ہے، طلبا اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ کر مسلسل احتجاج میں ہیں لیکن بالا حکام ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ تعلیم سب کا حق ہے اور آئین پاکستان بھی اس کی ضمانت دیتی ہے لیکن صوبائی حکومت خواب غفلت میں ہے۔ اس وقت تمام طبقہ فکر بیک آواز یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں گزشتہ کہیں مہینوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی ہم بھر پور حمایت کرتے ہیں اور یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں ہر قسم کی احتجاج میں شریک رہنے کا عہد کرتے ہیں 1973ئ کی آئین کی شق نمبر 25اے اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ریاست سولہ سال تک مفت تعلیم مہیا کرنے کی پابند ہے لیکن موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی سیاسی ساکھ بچانے میں لگی ہیں اور عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ علاقے میں شعور و آگاہی اور امن کیلئے ضروری ہے کہ تمام نوجوان تعلیم اور تعلیمی اداروں سے جڑے رہیں ۔لیکن حکومتیں اس بات کو پس پشت ڈال کر مزید الجھنیں پیدا کر رہی ہے۔


