بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جنیوا تک لانگ مارچ کریں گے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے جاری کردہ وڈیو بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں طویل جبری گمشدگیوں کیخلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے جبری گمشدگی کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹر تک طویل لانگ مارچ کرینگے۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے یہ طویل لانگ مارچ بلوچستان سے یورپی ملک سوئٹزر لینڈ تک منعقد کیا جائے گا، جہاں جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج کرینگے۔ ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا وہ گزشتہ پندرہ سال سے بھوک ہڑتالی کیمپ لگاکر پرامن احتجاج کررہے ہیں تاہم اس تمام دورانیے میں نہ حکومت اور نہ ہی پاکستانی اداروں نے ان کی بات سنی، اس لئے اب اپنی فریاد لیکر عالمی اداروں کے پاس جارہے ہیں تاکہ بلوچستان میں جاری ظلم کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران، ترکی کے ذریعے یورپ میں پیدل داخل ہونگے اور جنیوا پہنچ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ اس دوران جبری گمشدگی کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں عالمی اداروں سے رابطے میں ہے اور ہم لاپتہ افراد کے لواحقین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس عمل میں شامل ہوکر انکے اس احتجاج میں ساتھ دیں۔


