ساحل کے قریبی علاقوں کے لوگ پی ڈی ایم اے کی ایڈوائزری پر سنجیدگی سے عمل کریں، شیری رحمان
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سمندری سائیکلون بائپرجوائے حقیقت ہے۔ لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ گھبرائے بغیر ساحلی علاقوں کے لیے پی ڈی ایم اے سندھ اور پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ایڈوائزری پر سنجیدگی سے عمل کریں۔ اب تک اس کی بلوچستان کی جانب شدت میں معمولی کمی آئی ہے لیکن سمندری طوفان بہت غیر متوقع ہوتے ہیں۔ان خیالات کااظہار شیری رحمان نے منگل کے روزٹوئٹر پرجاری اپنے بیان میں کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ برائے مہربانی حکومت کے مشوروں پر عمل اور متعلقہ مقامی اداروں سے تعاون کریں۔ اس کی شدت میں فرق ضرور آیا ہے لیکن احتیاط بہت ضروری ہے، خاص طور پر سندھ کے ساحل کے قریب علاقوں میں کراچی میں ہوائوں کے پیمانے اور شدت کے پیش نظر شہری سیلاب کا امکان ہے۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اب تک کے موسمیاتی ماڈلز کے مطابق پاکستان میں طوفان سے کیٹی بندر، ٹھٹھہ اور عمر کوٹ کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیٹی بندر، کراچی ساحل سمندر، ٹھٹھہ، بدین، عمر کوٹ اور دیگر علاقوں سے لوگوں کا انخلا کر رہے ہیں۔ اب تک 40 ہزار سے زائد لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے، جبکہ 43 ریلیف کیمپز قائم کئے گئے ہیں۔طوفان کے رجحان اور شدت کے بارے میں آپ کو مزید آگاہ کرتے رہیں گے۔


