میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی نااہلی، کوئٹہ شہر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل، عوامی حلقوں کی تشویش

کوئٹہ (آن لائن) میٹرو پولیٹن کار پوریشن کوئٹہ نے صفائی کے نام پر کوئٹہ شہر کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے غلط منصوبہ بندی اور مفت تنخواہیں لینے والوں کو بچانے کے لیے ڈیلی ودیجز پر کام کرنے والے چند ایک خاکروبوں کو اپنے اپنے علاقے میں کام کرنے سے روک دیاگیا اور اب وہ صرف مخصوص علاقوں میں صفائی کریں گے جس پر شہریوں باالخصوص سابق کونسلروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اطلاعات کے مطابق کوئٹہ شہر کی صفائی و ستھرائی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے خاکروبوں کو نہ صرف اپنے اپنے علاقوں کی صفائی ستھرائی سے ہٹادیا بلکہ ان کو جمع کرکے روزانہ کی بنیاد پر مخصوص علاقوں میں صفائی کا عمل شروع کیا ہے جس کے باعث ایک علاقے میں صفائی کرنے کے بعد اس علاقے کی صفائی کا دوبارہ نمبر 10 دن بعد آے گا اور مذکورہ علاقے میں 10دن پھیلنے والی گندگی ہٹانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اسکی ایک مثال گوالمنڈی چوک، کاسی روڈ ،سرکی روڈ اور ترین روڈ ہے جہاں گذشتہ ایک ہفتے سے کچرا اور گندگی پڑی ہوئی ہے مگراٹھانے والا کوئی نہیں ہے اس سے نہ صرف کوئٹہ شہر کی صفائی اور ستھرائی کا نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ مختلف قسم کے وبائی امراض پھیلنے کا بھی خطرہ ہے یہاں دلچسپ امر یہ بھی کہ میڑو پولیٹن کار پوریشن کوئٹہ میں اس وقت کے ا عداد وشمار کے مطابق 700 ریگولر خاکروب ہیں جن کاتعلق مسیحی برادری سے ہے مگر ان میں بھی زیادہ ترغیرحاضر ہیں اس طرح سابق میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ کے دور میں کوئٹہ کے 58 وارڈز میں 1500 خاکروب بھرتی کیے گئے تھے جن میں زیادہ کا تعلق میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے آفیسران اور سابق کونسلروں کی رشتہ داروں کی ہے ان 1500خاکروبوں میں سے 200 بھی ایسے نہیں ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں ہرروز صفائی کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں تاہم میٹرپولیٹن کارپویشن کوئٹہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے انہیں ہرماہ تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جاتی ہےںشنید میں آیا ہے کہ گھروں پر تنخواہیں لینے والے اپنی تنخواہ میں سے ایک مخصوص رقم میٹرو کے با اختیار آفیسران کو ادا کرتے ہیں کوئٹہ کے شہریوں نے بلوچستان ہائی کورٹ اور سیکرٹری بلدیات دوستین جمالدینی سے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کی طرح جو خاکروب اپنے اپنے وارڈ میں کام کررہے ہےںانہیں دوبارہ وہاں پر صفائی کے لئے تعینات کیا جائے اور غیرحاضر 1300خاکروبوں کے خلاف قانونی کاروائی کرکے انہیں حاضرکیا جائے اس کے علاوہ ان آفیسران کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے جن کی ملی بھگت سے گھوسٹ خاکروبوں کی وجہ سے نہ صرف ان کی اپنی جیبوں میں لاکھوں روپے جارہے ہیں بلکہ گھروں پر تنخواہیں لینے والوں کے باعث ہر ماہ قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہورہا ہے اور صفائی کی صورت حال بھی ابتر ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں