ترقی یافتہ دور میں بھی تربت کی یوسی جمک گورکوپ بنیادی سہولیات سے محروم
تحریر: شہزاد بدل
یوسی جمک گورکوپ کے عوام زندگی کے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور تمام نمائندے خواب خرگوش میں ہیں، جمک ایک چھوٹے دیہات پر مشتمل مستوج سے جڑا ہوا ایک گاﺅں ہے، کئی سال سے حکومت اس گاﺅں کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا برتاﺅ کررہی ہے، تین سے چار ہزار افراد پر مشتمل جمک گورکروپ کے لوگ اب بھی اس ترقی یافتہ دور میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کسی بھی علاقے میں چند سہولیات ایسی ہیں جو اس علاقے کا بنیادی حق تصور کی جاتی ہیں اور یہ کام ریاست اور عوام کے منتخب نمائندوں اور گاﺅں کے دیگر کاسہ لیس وڈیروں، ناظموں، نائبوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولین ترجیح میں ان ترقیاتی اور بنیادی کاموں کو اہمیت دیں اور جمک کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنائیں۔
اسکول، اسپتال، سڑکیں اور بجلی کے نظام کیلئے جمک گورکوپ کے باسی گزشتہ کئی سال سے اپنے جائز حق کے واسطے ہر سیاسی نمائندے اور برائے نام انصاف کے دعویداروں کو منت کرتے پھر رہے ہیں لیکن بدقسمتی اور کہیں بے حسی پنجرے میں بند طوطی کی مانند ہے اور ان کی آواز کوئی نہیں سنتا اور نہ سننے کو تیار ہے۔
اس گاﺅں کے باسی اور یہاں کے معصوم بچے اور بچیاں 100 سے 120 کلو میٹرکی دوری پر تربت شہر میں اپنے رشتہ داروں کے گھر جاکر دربدر کی ٹھوکریں کھا کر اپنی تعلیم کو سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سب سے اہم اور ضروری سڑک ہے جس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں جو کئی سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تربت سے لیکر 100 کلو میٹر کی دوری پر کلگ جکی تک سڑک کھنڈر کا منظر پیش کررہی ہے جو کسی بھی وقت بڑے سانحہ کا سبب بن سکتی ہے اور یہ کھنڈر نما سڑک ہمارے علاقے کے معتبرین اور نمائندوں کی بے حسی اور لاپروائی کا رونا رو رہی ہے، جو روڈ کی مرمت کو ضروری نہیں سمجھتے۔
اس کے علاوہ اس علاقے میں اب تک بجلی کا نام و نشان تک نہیں۔ سال 2020ءمیں سرکار کی طرف سے 600 کے قریب 150 میگا واٹ سولر پینل مع بیٹری اور پنکھے جمک کے عوام کو عطیہ کیے گئے لیکن بدقسمتی سے جمک کے نو منتخب ناظم نے سولر پینل اور بیٹری فروخت کرکے پیسے اپنی جیب میں ڈال کر لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جب انسان پیسوں پر ضمیر کے فیصلے کرلے اور اس سلسلے میں سرعام باور کرایا جاتا ہے کہ وہ خدمت خلق کریں گے جبکہ پیسے ہڑپنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں کسی بھی نمائندے کے ساتھ ذاتی اختلافات نہیں لیکن سیاست اور جمہوریت کے تناظر میں ان کو سیاسی آئینہ دکھانا، ان کی نااہلی بتانا قومی فریضہ نہیں، ایمانی فریضہ ہے، ووٹ اگر امانت ہے تو حکومتی نمائندے اس سال کے بجٹ میں جامع منصوبہ بندی کرکے اہالیان علاقہ پر خصوصی توجہ دیں تاکہ علاقہ مکین بہترین زندگی جی سکیں۔


