محکمہ فشریز کو بلیک مارکیٹ بنا دیا، کوئٹہ کی آبادی کو مردم شماری میں کم ظاہر کیا گیا، بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی گفتگو
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس جمعرات کو اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر میر جان محمد جمالی کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری بشری رند نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مشکلات کے باوجود بہترین بجٹ پیش کیا ہے خامیاں ہر محکمے میں ہوتی ہیں اب بھی بہت سے علاقوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے صوبائی حکومت نے صوبے میں سینکڑوں نئے اسکولوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ شامل کیا ہے ،صحت کے شعبے کے لئے خطیر رقم رکھی ہے ادویات کی خریداری کے لئے 4.8ارب روپے مختص کئے ہیں عوامی انڈومنٹ فنڈ، صحت کارڈ، کوئٹہ و گوادر میں خواتین کے لئے پولیس اسٹیشنز کا قیام اور دیگر منصوبے اسی حکومت کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔حکومت نے کم وسائل میں ہر شعبے پر توجہ دی ہے بجٹ کوسراہنے کی ضرورت ہے ۔اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پشتونخوا میپ کے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ گزشتہ روز پشتونخوا میپ کے رہنما شہید عثمان خان کاکڑ کی دوسری برسی منائی گئی جلسہ منعقد کیا گیا شہید عثمان خان کاکڑ پی ڈی ایم کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن تھے کم از کم پی ڈی ایم اپنی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن کے قتل کی تحقیقات کرائے اقوام متحدہ نے بھی وزارت خارجہ کو شہید عثمان خان کاکڑ کے قتل کی تحقیقات کیلئے مراسلہ ارسال کیا ہے۔ اس سلسلے میں پشتونخوا میپ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کو بھی خطوط ارسال کئے ہیں شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت مظلوم و محکوم اقوام کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خاندان نے دہشتگردی کے خلاف 17 سے زائد افراد کی قربانیاں دی ہیں وانا کا نصف قبرستان انکے خاندان کے لوگوں سے بھرا ہوا ہے گزشتہ روز علی وزیر کو دو بارہ گرفتار کیا گیا ہے علی وزیر پر امن احتجاج کررہے تھے جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کیا گیا رکن قومی اسمبلی کے اسپیکیر کی اجازت کے بغیر قومی اسمبلی کے ممبر کی گرفتاری پارلیمنٹ اور اسپیکر کی توہین ہے پشتونخوا میپ کے خیبر پختونخوا کے صوبائی نائب صدر بہادر شیر افغان کے خلاف بھی دہشتگردی کے دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں جن کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے سالانہ میزانیہ بابت مالی سال 2023-24پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ آئندہ مالی سال کے 750ارب روپے کے بجٹ میں 49ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے بجٹ میں ترقیاتی مد میں انتہائی کم پیسے رکھے گئے ہیں زراعت، فشریز، جنگلات، لائیو اسٹاک کیلئے بھی بجٹ میں انتہائی کم پیسے رکھے گئے ہیں موسی خیل کی لائیو اسٹاک کی مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی جامعات کیلئے بھی بجٹ میں انتہائی کم رقم رکھی گئی ہے ڈھائی ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ہی ناکافی ہیں کوئٹہ شہر کی آبادی کو مردم شماری میں کم ظاہر کیا گیا ہے اس مردم شماری کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے عمارتیں بنانے سے علم نہیں آتا بلکہ اساتذہ کے پڑھانے سے معاشرے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں محکمہ تعلیم میں اساتذہ اور ملازمین کی کمی کو بھی نوٹ کیا جائے وفاقی حکومت نے بلوچستان کو کچھ نہیں دیا جب بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کو نظر انداز کئے جانے پر حکومت سے راہیں جدا کرنے کی دھمکی دی تو وفاقی حکومت نے فوراََ 25ارب روپے سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے رکھے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے صوبے کے ذمہ داروں کو بجلی کی مد میں ریلیف دیا جائے لوکل گورنمنٹ کو فنڈز فراہم کئے جائیں اور بلدیاتی اداروں کو مالی اختیارات دیئے جائیں مائنز اینڈ منرلز ڈپارٹمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ماہی گیری ماحولیات صحت کے شعبوں کو ترجیح دی جائے۔ اجلاس میں خاتون رکن اسمبلی زینت شاہوانی نے مالی سال 2023-24کے بجٹ میں انکے منصوبے شامل نہ کیئے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے یہ کہا کہ اس وقت صوبے میں کوئی اپوزیشن نہیں ہے سب حکومت کا حصہ ہیں صرف میں واحد رکن ہوں جو اپوزیشن میں ہوں اس لئے مجھے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے بجٹ آمدن اخراجات اورضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے صوبائی بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے نجی شعبوں میں ملازمت کرنے والے نوجوانوں کودال سبزی کھانے کے بھی لالے پڑ گئے ہیںمیرا کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تعلق ہے اور میری کوشش رہی ہے کہ سریاب کو بھی شہر کے دیگر ترقیافتہ علاوقوں کو برابر لاسکوں۔ کیونکہ اس وقت سریاب میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ہزاروں نوجوان بیروز گارہیں وہاں نہ تو معیاری تعلیمی ادارے ہیں اور نہ ہی وہاں کے نوجوانوں کو سکالر شپس دی جارہی ہیں میں نے کوشش کی کہ سریاب کے اندھیری گلیوں میں کم سے کم سٹریٹ لائٹس نصب کرکے وہاں روشنی لاﺅں میں نے اپنے علاقے کے لوگوں کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اپنی تجاویز جمع کرائیں مگر افسوس کہ بجٹ اور پی ایس ڈی پی میں میرا کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے ماضی میں جو اراکین جام کمال کے رویے کے خلاف احتجاج کیا کرتے تھے موجودہ وزیر اعلیٰ تو 6/6 ماہ اسمبلی ہی نہیں آتے ہیں وزیراعلی بتائیں کہ کس کے کہنے پر میرے خلاف کارروائی کررہے ہیں اگر وزیراعلی بیمار ہیں یا انکی کوئی مجبور ی ہے تو وہ استعفی دیدیں وزیراعلی کہتے ہیں کہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں مگر میںنے اس فلور کے سامنے اپنے تحفظات رکھے ہیں وزیراعلی کو ان کے جواب دینے پڑیں گے کیوںکہ پہلے پی این ڈی میں میری اسکیمات روکی گئیں جس پر میں نے سابق صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ سے ملاقات کرکے اپنی گزارشات انکے سامنے رکھی میں انکی مشکور ہوں کہ انہوں نے میرے رکے ہوئے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرایا اس کے بعد ان منصوبوں کو محکمہ فنانس میں روکا گیا جس پر میں نے صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک اچکزئی سے ملاقات کی اور میں ان کی بھی مشکور ہیں کہ انہوں نے مجھے عزت بخشتے ہوئے ان منصوبوں کو بحال کیا جس کے بعد محکمہ لوکل گورنمنٹ کی ایک خاتون افسرنے میرے منصوبے روکے جنکا شوہر مذکورہ دفتر چلا رہا ہے میری 2022-23کی اسکیمات کو ایک رکن نے اپنی فہرست میں شامل کیا ہے یہ عجیب اپوزیشن ہے جو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر اپوزیشن چلا رہی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا وہ کسی سے نہیں ڈرتی نہ صرف ڈرتی ہے بلکہ میدان میں بھی مقابلے کے لئے تیار ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ جو کچھ عرصے بعد ریٹائر ہورہے ہیں انکی کوشش ہے کہ انکی جو باقی سروس بچی ہے اس میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمائیں ایک سال بعد میرے تمام منصوبوں کو ایک رکن کے نام سے ٹینڈر کیا گیا۔ وزیراعلی ایوان میں آکر مجھے مطمئن کریں جب سے یہ حکومت آئی ہے مجھے انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے 2023-24کے بجٹ میں مجھے اسکیمات نہیں دی گئیں کیونکہ انہیں ہائی کمانڈ نے روکا ہے وہ ہائی کمانڈ کون ہے جو بلوچستان کو چلا رہا ہے وہ سریاب کے لوگوں کے حق کیلئے ہر فورم پر لڑیں گی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران احتجاجا اسپیکر ڈائس کے سامنے بیٹھ کر اجلاسوں میں شریک ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہر اجلاس میں سپیکر ڈائس کے سامنے بیٹھ کر اس وقت تک اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی رہیں گی جب تک وزیراعلی بلوچستان انہیں مطمئن نہیں کرتے۔ بعد ازاں زینت شاہوانی نے احتجاجا َسپیکر ڈائس کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا جس پر جمعیت علمااسلام کی رکن اسمبلی بانو خلیل اور عوامی نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی شاہینہ مہتر زئی نے بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر یکجہتی کا اظہار کیا۔اجلاس میں پشتونخوامیپ کے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ بجٹ میں عوام کا پیسہ ہوتا ہے ملی شہید کے نام سے ریسرچ سینٹر کے قیام سے لوگ وہاں آئیں گے اور تحقیق کریں گے ۔ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسی خیل نے رکن اسمبلی زینت شاہوانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انکا بیان ریکارڈ پر آگیا ہے وزیراعلی ایوان میں ہوتے تو وہ انکے تحفظات پر ضروربات کرتے ۔اس موقع پر وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ تمام منتخب ارکان اسمبلی برابر ہیں زینت شاہوانی کی شکایات بجا ہیں ان پر وزیراعلی سے بات کرونگا انکے جو جائز مطالبات ہیں ان پر عمل کریں گے جبکہ وزیراعلی سے ملاقات کے لئے وقت بھی لونگا ۔ رکن اسمبلی اپنا احتجا ج ختم کردیں جس پر زینت شاہوانی نے اپنا احتجاج ختم کردیا ۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسی خیل نے اسمبلی کااجلاس آج صبح 11بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔


