بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ اور افادیت کے جائزے کیلئے سروے کا آغاز

کوئٹہ (این این آئی) غیر سرکاری ادارے ایسوسی ایشن فار انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ نے بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانون 2021ءکے نفاذ اور افادیت کا جائزہ لینے کے لئے پبلک اکاﺅنٹبلیٹی فورم کے ذریعے سروے کا آغاز کردیا ، جائزہ سروے میں اس امر کا مشاہدہ کیا جائے گا کہ معلومات تک رسائی کے رائج الوقت قانون سے عوام کس حد تک استفادہ کر پارہے ہیں اور مختلف محکمہ جات معلومات کے حصول کے لیے دی جانے والی درخواستوں پر کس حد تک عملدرآمد کررہے ہیں۔ ایڈ بلوچستان کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن فار انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ ایک مقامی سماجی تنظیم ہے جو بلوچستان میں معاشرے کے کمزور طبقات کی ایک مو¿ثر آواز سمجھی جاتی ہے۔ ایڈ بلوچستان گزشتہ 7 سال سے بلوچستان میں دی نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی NED کے تعاون سے "معلومات تک رسائی کا 2021ءکا قانون ” The Right To Information Balochistan 2021 Act کے حوالے سے جدوجہد کررہی ہے۔ یہ قانون عوام کو معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے جسے استعمال کرکے حکومتی اداروں سے کوئی بھی معلومات لی جاسکتی ہے اس سلسلے میں ایڈ بلوچستان ایک اسٹیڈی کا انعقاد کررہی ہے جس میں ایک ماہر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ایڈ بلوچستان کے پبلک اکاﺅنٹبلیٹی فورم PAF کے اراکین چوہدری امتیاز احمد، میر بہرام بلوچ، شازیہ ملک، میر بہرام لہڑی، عادل جہانگیر، رانا احسن، میر محمد شعیب، محمد صادق سمالانی، عنایت سرپرہ، مس ہورین، ندیم محمد حسنی، شیزان ولیم، فضاءکنول اور انضمام اس قانون کے تحت کے بلوچستان کے کچھ اداروں میں باضابطہ طور پر درخواستیں جمع کرواچکے ہیں اسکے علاوہ ایک آن لائن کنسلٹیشن کے ذریعے پبلک اکاﺅنٹبلیٹی فورم کے اراکین کی تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا تربیت یافتہ یہ اراکین ایک سروے کریں گے جس میں جائزہ لیا جائے گا کہ بلوچستان میں معلومات تک رسائی کا قانون 2021ءپر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے اور اس قانون سے متعلق عوام میں کس حد تک آگاہی پائی جاتی ہے جبکہ اسے کیسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے فورم اراکین کے مشاہدے کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کچھ محکموں میں انفارمیشن آفیسرز کی تعیناتی کردی ہے تاہم انہیں قوانین سے مکمل آگاہی حاصل نہیں اور متعین انفارمیشن افسران آر ٹی آئی کے تحت درخواستیں لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں جو کہ اس قوانین کی افادیت کو موثر طور پر نافذ کرنے کی راہ میں رکاوٹ تصور کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں