سڑکوں کی عدم تعمیر اور منشیات کے بڑھتے کاروبار کیخلاف بی این پی اور تاجر تنظیموں کی ریلی، اسمبلی کے باہر دھرنا

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی اور مرکزی انجمن تاجران بلوچستان ،چیئرمین تاجران بلوچستان کے زیر اہتمام سریاب روڈ اور زیر تعمیر سڑکوں کے کام کے التواءکے خلاف سریاب کسٹم سے ریلی نکالی گئی جو مختلف علاقوں سے ہوئی بلوچستان اسمبلی کے سامنے پہنچ کر احتجاجی دھرنے کی شکل اختیار کرگئی ریلی کی قیادت پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر حاجی عبدالباسط لہڑی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑچیئرمین تاجران بلوچستان ٹکری حمید بنگلزئی کچلاک ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین ملک رشید کاکڑتاجر اتحاد کے جنرل سیکرٹری حاجی سعد اللہ انجمن سریاب کے صدر زمان خان انجمن قصابان کے مرکزی صدر حاجی سرمد صدیق جاوید بلوچ تنظیم ہدہ اکیڈمی کے کائنات بلوچ اور نذیر احمد بلوچ،موسی بلوچ مرکزی خواتین سیکرٹری ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار، غلام نبی مری آغا خالد شاہ دلسوز،جاوید بلوچ، ٹکری شفقت اللہ لانگو،جمیلہ بلوچ شمائلہ اسماعیل ،ثانیہ حسن کشانی ایڈووکیٹ ،واحد بلوچ ،ملک محمد ساسولی ،ملک محئی الدین لہڑی ،اسماعیل کردنسیم جاوید ہزارہ ، محمد اکرم بنگلزئی باجی منورہ سلطان ،ملک عطا اللہ کاکڑپرنس رزاق بلوچ کررہے تھے صوبائی وزراءاور اراکین اسمبلی کی یقینی دہانی پر مظاہرین نے اپنا دھر نا پرامن طور پر ختم کردیا جبکہ مظاہرین کی جانب سے حکومت کو 16نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ دیا گیا تھا جس میں سریاب اور دیگر علاقوں سے منشیات کے خاتمے سڑکوں کی توسیع میں سست روی گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور ادویات کی فراہمی سکولوں میں اساتذہ کی کمی اور ٹرانسپورٹ کے اڈوں کی فراہمی کے حوالے سے سریاب روڈ، سبزل روڈ اور دیگر علاقوں میں متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ کی فراہمی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پی ڈی ایم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے نقاط شامل تھے اور پی ڈی ایم اے کے پاس ریسکیو کے عملے کو جدید تربیت اور سازوسامان سے لیس کرنا سریاب میں نادرا سینٹر اور کھلاڑیوں کو سہولیات کی کمی پینے کے صاف پانی کی فراہمی ٹینکر مافیا کی من مانی کے خلاف آواز بلند کی جارہی ہے مقررین کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہریوں کے بنیادی مسائل کو اجاگر کیا جس کے نتیجے میں عوام گزشتہ کئی سالوں سے مشکلات سے دوچار ہیں اور بنیادی سہولیات میسر نہیں آئے روز سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگ مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر تحریک کو مزید وسعت دینگے حکومت اور متعلقہ حکام کی ان مسائل کے حل کے حوالے سے خاموشی باعث تشویش ہے سڑکوں کی تعمیر التواءکا شکار ہے جسکی وجہ سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں سٹی نالے میں آپریشن کے بعد منشیات کے عادی افراد نے سریاب اور ملحقہ علاقوں کا رخ کرکے خیمہ بستی قائم کرلی ہے جس سے چوری ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ رہی ہے جس سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہورہی ہے سریاب میں اسپورٹس کمپلیکس اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سینٹر کا قیام ناگزیر ہے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں لوگوں کی جانیں لی جارہی ہے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ پانی کی عدم فراہمی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پرائس کنٹرول کمیٹی کہیں نظر نہیں آرہی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مریض موت کے منہ میں جارہے ہیں ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے مظاہرین سے صوبائی وزراءسردار عبدالرحمن کھیتران ،حاجی محمد خان لہڑی ،راکین صوبائی اسمبلی ثنا اللہ بلوچ ،اختر حسین لانگو،نصر اللہ زیرے، میر یونس عزیز زہری ، قادر نائل نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات کو جلد ازجلد حل کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائینگے اس یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منشتر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں