عید الاضحی ،کوئٹہ سمیت ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں گہما گہمی،جانوروں کی قیمتیں آسمان پر
اسلام آباد ،کراچی ،پشاور،کوئٹہ،لاہور(صباح نیوز) عید الاضحی کی آمد آمد ہے ،چھٹی کے دن کراچی سمیت ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں گہما گہمی رہی ، جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر نے لگیں ،شہری قیمتیں سن کر چکر ا گئے ۔سنت ابراہیمی کی پیروی کے لئے شہریوں نے چھٹی کے دن مویشی منڈیوں کا رخ کرلیا، اتوار کی وجہ سے منڈیوں میں خاصی گہما گہمی دیکھی گئی ۔کراچی میں ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی ناردرن بائی پاس کے قریب سجی ہوئی ہے جس میں ایک سے بڑھ کر ایک جانور لایا گیا ۔ وی آئی پی بلاک میں جانور بھی وی آئی پی ہیں ساتھ ہی ان کی قیمتیں بھی وی آئی پی ہیں۔مویشی منڈی کا رخ کرنے والے شہریوں نے بتایا کہ جانوروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اچھی گائے یا بکرا خریدنا مشکل ہوگیا جس جانور پر ہاتھ رکھتے ہیں بیوپاری بہت زیادہ پیسے مانگتے ہیں۔دوسری جانب بیوپاریوں نے کہا کہ مہنگائی کے اثرات جانوروں پر پڑ رہے ہیں۔ مویشیوں کے چارے کی قیمتیں بہت زیادہ ہوگئیں، اس کے علاوہ دور دراز سے جانور کراچی لانے پر کرایہ بھی بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے اس کے علاوہ کھانے پینے کی چیزیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ کراچی میں ناردرن بائی پاس مویشی منڈی کے اطراف چور اور لٹیرے سرگرم ہوگئے ، مویشی منڈی کی پارکنگ سے نوجوان کی گاڑی چوری ہوگئی نوجوان کا کہنا ہے کہ مویشی منڈی کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی تھی، واپس آیا تو گاڑی موجود نہیں تھی سب جگہ تلاش کرلیا لیکن گاڑی نہیں ملی ۔ پارکنگ عملہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا جبکہ منڈی انتظامیہ بھی تعاون نہیں کررہی۔ اسلام آباد ،راولپنڈی ،گوجرانوالہ ، لاہور ،ملتان ،کوئٹہ ،پشاور سمیت مختلف شہروں میں خریدار اور بیوپار دونوں مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن اپنی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔منڈیوں میں بھی قربانی کا جانور لینے کے لئے آنے والے شہری مہنگا ئی کا شکوہ کر تے نظرآئے جبکہ بیوپاری قیمتیں کم کرنے کو تیار ہی نہیں تھے، خریدار جانوروں کی قیمتیں سن کر واپس لوٹتے رہے ۔دوسری جانب ،عید قربان کے لیے شہریوں نے تیاریاں شروع کردیں۔ چھریاں اور ٹوکے تیز کروانے کے لئے دکانوں کا رخ کرلیا۔ کوئی پرانی چھریاں تیز کروارہا تو کسی کو اس عید پر نئی چھری لینی ہے۔شہریوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال نئی چھریوں کی قیمت میں 200روپے تک اضافہ ہوگیا، دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اثرات ان کے کاروبار بھی پڑے ہیں اس لیے چھریاں مہنگی کی گئیں۔ جیسے جیسے عید قریب آرہی ، چھریوں کی دکانوں پر شہریوں کا رش بڑھنے لگا ۔


