پاکستان کا بھارت سے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو رہا کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد (این این آئی) پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکام جیل میں قید کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو فوری طور رہا اور جموں وادی میں یکطرفہ کارروائیوں اور طاقت کا استعمال بند کرے۔ تخریب کاری کے مسئلے کو سفارتی مفاد کےلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان نے اسلام آباد میں موجود سویڈش ناظم الامور کو طلب کر کے سویڈش حکام تک قرآن مجید کی بے حرمتی پر احتجاج پہنچایا۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھا ہے، ہم افغانستان سے بھی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، سی پیک میں چین نے 24 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، پاکستان اور چین سی پیک کو آگے بڑھانے کے عزم پر قائم ہیں۔ بھارت میں عالمی کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے پر فیصلہ حکومت کرے گی۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ ممتاززہرا بلوچ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے عید الاضحیٰ منائی جبکہ کشمیری جموں خطے میں کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے عید کی نماز بھی ادا نہیں کرسکے۔ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ 8 جولائی کو برہان مظفر وانی کی برسی ہے جو بھارتی جبرو استبداد کے خلاف کشمیری نوجوانوں کی مزاحمت کی ایک علامت ہیں۔ پاکستان کے بارے میں بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ تخریب کاری کے مسئلے کو سفارتی مفاد کےلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے، بالخصوص ایسے حالات میں جب تخریب کاری کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جنہیں پاکستان نے متعلقہ فورمز پر پیش کیا ہے۔ ممتاز زہرہ بلوچ نے جموں کشمیر میں جاری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں وادی میں یکطرفہ کارروائیوں اور طاقت کا استعمال بند کرے۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں و کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سویڈن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ماضی میں بھی سویڈن میں قابل مذمت واقعات ہوچکے ہیں، پاکستان نے سویڈن حکام کو تحفظات سے آگاہ کیا، پاکستان نے اسلام آباد میں موجود سویڈش ناظم الامور کو طلب کیا، سویڈش حکام تک قرآن مجید کی بے حرمتی پر احتجاج پہنچایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھا ہے، ہم افغانستان سے بھی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، تخریب کاری جیسے سنجیدہ چیلنج پر بھی افغانستان سے مذاکرات کیے گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاک افغان سرحد عالمی طور پر مسلمہ بارڈر ہے، پاک افغان سرحد کو امن کا بارڈر بنانا چاہتے ہیں، کچھ عناصر سرحد کو متنازع بنانے کیلئے حملے کرتے ہیں۔ یونان کشتی حادثے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یونانی حکام نے 78 لاشوں کا پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرلیا ہے اور اس عمل کے بعد مزید پندرہ پاکستانیوں کی شناخت ہوئی ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے سوئٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سوئس وزیر خارجہ 7 سے 9 جولائی کو سرکاری دورہ کریں گے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے سوئس ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سوئس وزیر خارجہ و فیڈرل قونصل کلاسز اسلام آباد میں وزیر ماحولیات شیری رحمن اے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل جانے والے پاکستانیوں کیخلاف کارروائی کے حوالے سے ایف آئی اے بہتر بتاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ اس عالمی تسلیم شدہ سرحد کے حوالے سے کسی سے کبھی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد کو ہمیں امن کی سرحد بنایا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ یونانی انتظامیہ نے ملنے والی 78 لاشوں کے پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان لاشوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچنے والے پاکستانیوں سے یونانی انتظامیہ حادثے کی وجوہات پر تحقیقات کررہی ہیں۔ پاکستان نے یونانی حکومت سے اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یونانی انتظامیہ نے کشتی حادثہ میں 15 پاکستانیوں کی گنگر پرنٹ میچ اور ڈی این اے سے تصدیق کی،یونانی انتظامیہ نے معاملے پر تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیشن قائم کیا ہے۔یونان کشتی حاڈثہ میں اس کشتی پر سفر کرنے والے کل پاکستانیوں کی تعداد،پاکستانی ، یونانی اور دیگر حکومتوں کو معلوم نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈًی این اے کے نمونے ان افراد کے حاصل کیے گئے ہین جن کو اپنے پیاروں کی اس کشتی پر موجودگی کا یقین ہے۔ ایک سوال پر ترجمان نے کہاکہ بھارت میں عالمی کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے پر فیصلہ حکومت کرے گی۔


