پنجگور ٹیچنگ اسپتال میں ڈاکٹروں کی 93 اسامیاں عرصہ دراز سے خالی، عوام صحت کی سہولت سے محروم
پنجگور (نامہ نگار) ٹیچنگ اسپتال پنجگور میں میڈیکل آفیسرز کا بحران بدستور جاری۔ ٹیچنگ اسپتال پنجگور میں ڈاکٹروں کی 93 پوسٹ ہیں جوکہ عرصہ دراز سے خالی ہیں، اسپتال میں صرف 14 ڈاکٹر تعینات ہیں جوکہ دس لاکھ کی آبادی کے لئے ناکافی ہیں، دور دراز کے مکین معمولی بیماری کے لیے پچاس، سو میل کی مسافت برداشت کرکے شہر آنے پر مجبور ہیں مگر شہر میں بھی صورتحال کچھ ٹھیک نہیں، سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں سیکنڈ اور نائٹ شفٹوں میں کوئی میڈیکل آفیسر موجود نہیں ہوتا، جس سے مریض اور انکے لواحقین وقتی ریلیف حاصل کرسکیں۔ پنجگور میں برسوں سے عوام طبی سہولتوں کے لیے در در بھٹک رہے ہیں۔ ٹیچنگ اسپتال کے لیے دو ماہ پہلے 36 ڈاکٹروں کی تقرری کے احکامات جاری ہوئے تھے، مگر ان ڈاکٹروں نے تاحال اپنی جائے تعیناتیوں پر جوائنگ نہیں دی۔ پنجگور چونکہ صوبے کا ایک پسماندہ اور دور دراز علاقہ ہے عوام کے لیے طبی سہولتوں کے لیے واحد ذریعہ سرکاری اسپتال ہیں، سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان اور ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے شہر کی دس لاکھ آبادی پتھر کے دور سے گزر رہی ہے۔ معمولی بیماری، روڈ حادثات اور گن شاٹ کے کیسز میں پنجگور کے لوگ تربت، کوئٹہ، کراچی جانے پر نہ صرف مجبور ہیں بلکہ انہیں شدید ذہنی اذیتوں سے دوچار رہنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہوتے کہ وہ اپنے مریضوں کو فوری طور پر کسی دوسرے شہر میں ریفر کرائیں نجی سطح پر بھی پنجگور طبی سہولتوں کے حوالے سے کافی پیچھے ہے، کوئی ایسا میڈیکل سینٹر، میٹرنٹی ہوم نہیں جہاں شہری کسی ایمرجنسی میں وقتی طور پر ریلیف حاصل کرسکیں، شہر میں طبی سہولتوں کے فقدان، شہری اور دیہی اسپتالوں میں میڈیکل آفیسرز کا نہ ہونا تاریخی المیہ ہے جسکی وجہ سے روزانہ عوام کو اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔


