خضدار میں یونیسیف کے اشتراک کے تحت پروجیکٹس میں اقربا پروری کیخلاف نوجوانوں کی احتجاجی ریلی

خضدار (آن لائن) خضدار کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں نوجوانوں ڈاکٹر فیصل بلوچ، شکیل بلوچ، کریم بلوچ، اسحاق حقانی گہور خان بلوچ عبداللہ و دیگر نے خضدار میں یونیسیف اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے غیر سرکاری تنظیم میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاﺅنڈیشن MERF کے تحت نیوٹریشن کے پروجیکٹس میں غیر قانونی اور اقربا پروری کے خلاف ایک ریلی نکالی ریلی اور خضدار پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے بے نظیر نشوونما پروگرام میں پچھلے سال جو تعنیاتیاں عمل میں لائی گئی تھیں انہیں اور حالیہ بھرتیوں کو بلاتاخیر منسوخ کرکے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کی تقرری عمل میں لائی جائے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تعیناتیاں نااہل اور غیر تجربہ کار ٹیم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص لابی کے پورے خاندان کے افراد پہ مشتعمل تھے اسطرح کی تعیناتیاں غیر سرکاری تنظیموں کے قوائدو ضوابط کے خلاف ورزی ہے جسکی وجہ سے پروجیکٹ انتہائی سست روی کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ متنازع ہے جن کے اس غیر زمہ داران فعل کی وجہ سے خضدار میں دوسرے غیر سرکاری تنظیمیوں پہ منفی اثرات پڑ رہے ہیں جو قابل افسوس عمل ہے اور اب بد قسمتی سے یونیسف نے نیوٹریشن کے پروجیکٹ کو متنازع غیر سرکاری ادارہ (مرف)کو دیاگیا ہے اور MERF نے اپنی سابق روایات کو برقرار رکھتے ہوئے غیر قانونی اقربا پروری کے کلچر کو پروان چڑھاتے ہوئے مخصوص لابی کے باقی پورے خاندان کے تعنیاتی کی عمل کو اپناتے ہوئے نان تجربہ کار، نان لوکل اور نااہل اشخاص کو تعنیات کیے گیے ہیں۔ جو خضدار کے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار نوجوانوں کے ساتھ مزاق کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے احتجاج کے توسط سے ڈونر یونیسف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر یونیسف، ورلڈ فووڈ پروگرام اور احکام بالا MERF کے غیر قانونی اور ناقص مزموم مقاصد کا نوٹس نہیں لیا گیا تو ہم جمہوری عمل اپناتے ہوئے ہر قسم کے احتجاج کی حق رکھ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں