پاکستان بھر میں موسلادھار بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ اور کرنٹ سے مزید 9 افراد جاں بحق، 29 جولائی تک الرٹ جاری
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میںخواتین اور بچوں سمیت مزید 9 افراد جاں بحق اور4 زخمی ہوگئے،گزشتہ دو روز کے دوران مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 18ہوگئی۔ریسکیو حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے بحرین میں گھر پر پہاڑی تودہ گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ واقعے میں ملبے تلے دبے 3 افراد کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا۔پنجاب کے ضلع پاکپتن میں بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق کرنٹ لگنے سے جاں بحق افراد میں2 سالہ عائشہ، 32سالہ رمضان اور وقاص شامل ہیں۔دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع سکردو میں شنگوس کے مقام پرگاڑی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئی۔ ریسکیوحکام کے مطابق افسوسناک حادثہ جگلوٹ سکردو روڈ پر پیش آیا، حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک نوجوان شدید زخمی ہوگیا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی ملک بھر میں مون سون سیزن کے دوران شدید بارشوں سے مختلف حادثات میں بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہارسمیت پنجاب، شمال مشرقی اورجنوبی بلو چستان ،خیبر پختونخوا اورسندھ میں آندھی، تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ مزید موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اعلامیے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خطہ پوٹھوہار، اسلام آباد، پنجاب، سندھ، بلوچستان ،خیبر پختونخوا،کشمیر اورگلگت بلتستان میں تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقا مات پر موسلادھار بارش بھی ہوئی،جبکہ زیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق نوکنڈی اور دالبندین میںدرجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے مزید کہا ہے کہ 26 جولائی تک اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ اورلاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ جبکہ مری،گلیات،کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج (پیر) تک موسلادھار بارش کے باعث زیریں سندھ تھرپارکر ، عمرکوٹ ، میرپور خاص، سانگھڑ ، خیرپور، ، کشمور، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، کراچی اور حیدرآباد کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے مطابق آئندہ دو تین روز کے دوران فلیش فلڈنگ اور موسمی نالوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ اعلامیے کے مطابق شمالی پنجاب اور جنوبی خیبرپختونخوا کے دریاں میں تیز بہا کا بھی امکان ہے ۔ بارشوں سے سندھ میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اربن فلڈنگ اور نالہ لئی میں طغیانی کا خدشہ ہے ۔ این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ عوام کیلئے پیشگی اطلاع وحفاظتی تدابیر کی تشہیر کی جائے ، کسی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشینری تیار رکھی جائے ، نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی نقل مکانی کیلئے انتظامات کئے جائیں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے بھی پنجاب میں 29 جولائی تک مزید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پنجاب کے دریاں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔دوسری جانب مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث دیر اور چترال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔سیکرٹری ریلیف کے مطابق ایمرجنسی ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر نافذ کی گئی ۔ دونوں اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ 15 اگست تک ہوگا۔سیکریٹری ریلیف نے بتایا کہ ایمرجنسی متاثرہ اضلاع میں ریسکیو، ریلیف آپریشن اور بحالی کیلئے لگائی گئی۔ بارش اور سیلاب کے باعث لوئر چترال میں 39 اور اپر چترال میں 19 گھروں کو نقصان پہنچا ۔اس حوالے سے حساس علاقوں میں سیاحوں،مسافروں اور مقامی افراد کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کا مشورہ دیا گیا ۔


