بلوچستان کے وسائل سے ملکی قرضی اتارنے کی اجازت نہیں دینگے، اسلم بھوتانی

کوئٹہ:رکن قومی اسمبلی محمداسلم بھوتانی نے کہاہے کہ بلوچستان کے وسائل سے ملکی قرضے اتارنے کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے بیرونی قرضوں سے جتنا حصہ بلوچستان کی ترقی پر خرچ کیا ہے وہ بلوچستان کے عوام دینے کیلئے تیار ہیں مگر پوری ملک کی ترقی وخوشحالی پر خرچ کرنے والے قرضوں کاہم ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ ہی ریکوڈک سے قرضے کی ادائیگی کرینگے ان خیالات کااظہارانہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل سے قرضے ا تارنے کیلئے ہم کسی کو بھی اجازت نہیں دینگے بلوچستان پہلے سے ہی پسماندگی کاشکار رہا اور امن وامان کی خراب صورتحال کے پیش نظر لوگوں نے سرمایہ کاری کسی اور جگہ منتقل کردی دنیامیں جہاں معدنیات ہوتی ہیں اس صوبے یاخطے میں ترقی کے آثار نما یا ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہمارے وسائل ہمارے لئے مصیبت بن رہے ہیں 1952سے گیس نکلی اور پوری ملک کو آج تک گیس دی جارہی ہے مگر بلوچستان کے 10فیصد علاقے میں بھی گیس فراہم نہیں کیاگیا کیا یہ انصاف کا تقاضا ہوتا ہے جب ہم اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں تو ہمیں مختلف القابات سے نوازتے ہیں انہوں نے کہا کہ گیس کے بعد سیندک پروجیکٹ میں بھی بلوچستان کے ساتھ ناانصافی کی گئی سیندک پروجیکٹ میں بلوچستان کو 2فیصد حصہ ملا اسلام آباد کو 48فیصد اور چین کو 50فیصد حصہ دیا گیا 18ویں ترمیم کے بعد جب اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے تو وفاق نے ایک بار پھر ناانصافی کا تقاضا کرتے ہوئے 5سال کا معاہدہ کیا گیس سیندک،سمندر اور وسائل سب کچھ ہمارے ہیں لیکن بلوچستان کی قسمت نہیں بدلی بلکہ مایوسی کاشکارہوئے ہیں بلوچستان میں بجلی بھی 18گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ایک ریکودک بچا تھا اس کو بھی قرضوں کی نظر کی جارہی ہے بلوچستان کی خوشحالی کی ضامن ہیں مگر وفاق نے اعلان کر کے ریکوڈک زخائر کو بھیج ملکی قرضے اتارنے کا جو اعلان کیا ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں اگر قرضے لئے ہیں مختلف ادوار میں اس کا جتنا بھی حصہ بلوچستان پر خرچ کیا ہے وہ حصہ ہم دینے کیلئے تیارہیں بلوچستان نے بہت قربانیاں دیئے ہیں اب کوئی قربانی نہیں دینگے اب کوئی اور صوبہ قربانیاں دیں اور بلوچستان مزید ناانصافیاں برداشت نہیں کرینگے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں