وفاقی محکموں میں کوہلو کے جعلی ڈومیسائل پر 135 سے زائد غیر مقامی افراد کی بھرتی کا انکشاف
کوئٹہ:وفاقی محکموں میں کوہلو کے جعلی ڈومیسائل پر 135 سے زیادہ غیر مقامی افراد کی بھرتی کا انکشاف ہواہے،بلوچستان کے کوٹے پر ڈومیسائل پر پنجاب، سندھ کشمیر اور ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا گیا۔باخبر ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع کوہلو کے ڈومیسائل پر غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں، ان بھرتیوں میں کلاس 4 سے گریڈ 17 تک کے آفیسران و ملازمین شامل ہیں، معلوم ہوا ہے کہ غیر قانونی ڈومیسائل لوکل برانچ کوہلو کے سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے جاری کیے گئے۔ایک مقامی آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غیر مقامی افراد کوہلو کے ڈومیسائل پر بھرتی ہو کر کئی سال سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، یہ انکشاف گورنر بلوچستان اور چئیرمن سینیٹ کی جانب سے بھرتی ہونے والے افراد کے ڈومیسائل کی دوبارہ ڈپٹی کمشنر سے تصدیق کے دوران ہوا۔خیال رہے کہ وفاقی اداروں نے ڈومیسائل کی تفصیل تصدیق کے لیے ڈپٹی کمشنر کو بھجوائی تھی، ڈپٹی کمشنر آفس کوہلو میں انکوائری کے دوران معلوم ہوا کہ ڈومیسائل غیر قانونی طور پر بنائے گئے۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بلوچستان ہائی کورٹ نے جعلی ڈومیسائل پر بلوچستان کے کوٹے پر ملازمتیں دینے کے ایک کیس میں تفصیلی تحریری فیصلہ بھی جاری کیا تھا، شہری کی آئینی درخواست پر بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل ڈویژن بینج نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ بلوچستان کے کوٹے پر قومی اسمبلی میں ملازمت پر خاتون کے خلاف کارروائی کرے۔کوئٹہ کے جعلی ڈومیسائل پر بلوچستان کے کوٹے پر ایک خاتون کو قومی اسمبلی میں ملازمت دی گئی تھی۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عاصمہ مرتضی نے بلوچستان کے ڈومیسائل پر ملازمت حاصل کی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی تحقیقات کی روشنی میں خاتون کا ڈومیسائل جعلی ثابت ہوا، چیف سیکریٹری بلوچستان ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائے جو جعلی ڈومیسائل اور دہرے لوکل سرٹیفکیٹ کی 2 ماہ میں جانچ پڑتال کریں۔


