این ایف سی کی تشکیل، بلوچستان ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل اور3 ایڈوکیٹ جنرلز کو طلب کر لیا
کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس نذیراحمد لانگوپرمشتمل بینچ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی)سے متعلق دائر متفرق درخواستوں میں اٹارنی جنرل آف پاکستان سمیت سندھ،پنجاب اور خیبرپشتونخوا کے ایڈووکیٹ جنرلز کونوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر طلب کرلیاہے۔گزشتہ روز سماعت کے موقع پر درخواست گزاران ساجد ترین ایڈووکیٹ‘کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ‘راحب بلیدی ایڈووکیٹ،عطا اللہ لانگو ایڈووکیٹ‘ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب محمد طاہر ایڈووکیٹ اور اے اے جی شے حق بلوچ عدالت کے روبرو پیش ہوئے سماعت شروع ہوئی توعدالت نے درخواست گزاران سے استفسار کیاکہ این ایف سی میں بلوچستان کیلئے مقررہ کردہ ممبر مستعفی ہوچکے ہیں جس پر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایاکہ ان کی آئینی درخواست میں دیگر معاملات کو شامل کیاگیاہے بلکہ صدرمملکت کی جانب سے ٹرم آف ریفرنسز کے سب سیکشن D,Eاور F پر بھی انہیں اعتراض ہے اور کمیشن کادائرہ اختیار یہ نہیں بنتا‘آئین میں مرکز اور صوبوں کے مالی اختیار کاتعین کردیاگیاہے ملک میں سیکورٹی صورتحال خالصتا وفاقی سجکٹ ہے ہمیں خدشہ ہے کہ 18ویں ترمیم کی طرح نیشنل فنانس کمیشن کو بھی متنازعہ بنائے جانے کی کوشش کی جائیگی، درخواست گزار کے وکیل جانب سے یہ نقطہ اٹھایاگیاکہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ وریونیو کو پٹیشن میں پارٹی نہیں بنایاگیا،انہوں نے درخواست کی کہ رسپونڈنٹ نمبر5کو پٹیشن میں پارٹی بنایاجائے جس پر عدالت نے انہیں اجازت دیدی اور رسپونڈنٹ نمبر5کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی،ڈی اے جی کو ہدایت کی گئی کہ وہ وزیراعظم کے ایڈوائزر کو پٹیشن سے متعلق آگاہ کرے،پٹیشن نمبر414اور 419/2020میں رسپونڈنٹ نمبر 3,4اور 5کو طلب کیا گیا تھا اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ انہوں نے عدالتی احکامات کی روشنی میں سندھ،خیبرپشتونخوا اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرلز کو مطلع کیا تھا بلکہ انہوں نے پٹیشن کی کاپیاں بھی بھجوا دی تھی،انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک مرتبہ پھر سندھ،خیبرپشتونخوا اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز بھجوائے جائیں عدالت نے ہدایت کی کہ ڈائریکٹرجنرل محکمہ تعلقات عامہ اخبار میں نوٹس شائع کریں تاکہ اٹارنی جنرل اور سندھ،خیبرپشتونخوا اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرلز کو علم ہوسکیں بعدازاں متفرق درخواستوں کی سماعت کو23جون تک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔


