جماعت الدعوة کا زخمی رہنما اسپتال میں دوران علاج جاں بحق، ایس آر اے نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کے حملے میں شدید زخمی جماعت الدعوة کا اہم رہنما ملا سردار حسین آرائیں کراچی کے اسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق چار روز قبل، یکم اگست کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوة کی عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ کے ایک اہم رہنما ملا سردار حسین آرائیں پر سندھودیش روولیوشنری آرمی نے سندھ کے ضلع نواب شاہ کے شہر قاضی احمد میں اس وقت حملہ کیا، جب وہ اپنے گھر سے آکر ڈیڑاں روڈ پر واقع اپنی دکان پر آیا۔ حملے میں ملا سردار آرائیں شدید زخمی ہوا تھا، جسے فوراً نوابشاہ کے ایک نجی استال میں منتقل کیا گیا، جس کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد اسے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔ یاد رہے کہ ملا سردار حسین آرائیں 2018ءکے الیکشن میں نوابشاہ کی پی ایس 40 سے لشکرِ طیبہ کی سیاسی فرنٹ اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں بھی کھڑا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق ملا سردار حسین مقامی سطح پر جماعت الدعوة کے مدارس اور لشکرِ طیبہ کے مراکز کو مضبوط کرنے کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ جس نے اللہ اکبر تحریک اور جماعت الدعوة کے پلیٹ فارم سے بہت سے احتجاج اور پروگرام بھی منعقد کیے تھے۔ یاد رہے کہ لشکرِ طیبہ کے اس رہنما پر حملے کی ذمہ داری سندھ کی آزادی پسند مسلح تنظیم سندھو دیش روولیوشنری آرمی نے قبول کی تھی۔


