بلوچستان ہائیکورٹ میں گیس سے متعلق درخواست کی سماعت، مسئلہ بلاتاخیر حل کرنے کی ہدایت
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس اقبال احمد کاسی پر مشتمل بینچ نے سید نذیر آغاایڈووکیٹ کی جانب سے قدرتی گیس سے متعلق صارفین کے مسائل کے حوالے سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی ۔ معزز عدالت نے گیس حکام کو حکم دیا کہ اندرون شہر و مضافات میں گیس پریشر کا مسئلہ بلا تاخیر حل کیا جائے۔ معزز عدالت کے روبرو خلیل الرحمن یوسف زئی ایڈوکیٹ نے زرغون آباد فیز ون اور ٹو میں گیس پریشر میں کمی کی شکایت کی اسی طرح نواکلی کے رہائشی نعیم بازئی نے ٹیچرز کالونی، خلجی آباد، سرہ غڑ گئی،راغلہ کلی اور کلی شاہ عالم میں گیس پریشر میں کمی کے بارے میں بتایا محمد یوسف خان ایڈوکیٹ نے سیٹیلائٹ ٹا¶ن اور اسی طرح کلی سملی کے رہائشیوں نے بھی گیس پریشر کی شکایتیں کیں معزز عدالت کو چیف انجینئر ایس ایس جی سی ایل نے یہ ٹیکنیکل ایشوز مرحلہ وار حل کرنے کی یقین دہانی کرائی انہوں نے بتایا کہ شہر کے وسط میں 16 انچ قطر کی پائپ لائن کی بچھائی مکمل کی جا چکی ہے تاہم اس پر آپریشن مرحلہ وار جاری ہے جس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ کچھ ٹیکنیکی مسائل درپیش ہیں اسی طرح نوا کلی میں 12 انچ قطر کی گیس پائپ لائن بھی پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے لیکن کچھ گرے ایریاز کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے لیے بھی ایس ایس جی سی ایل کے حکام مصروف عمل ہیں اور اسے کم سے کم وقت میں حل کر لیا جائے گا- مسلم اتحاد کالونی کے رہائشی جناب نعیم اللہ کے اس بیان پر کہ کالونی کے لیے گیس پائپ لائن منصوبہ 2015 سے زیر التوا ہے چیف انجینیئر ایس ایس جی سی ایل نے عدالت کو بتایا کہ گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے اور مجاز حکام کو حتمی منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے معزز عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر تاکید کی کہ وہ اس کی فوری منظوری کے لیے متعلقہ حکام کو مطلع کریں اور وہ آئندہ سردیوں سے قبل اسے فعال کریں – معزز عدالت کو کیو ایم سی کے وکیل کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں گیس پائپ لائن بچھائی کے بعد گھڑوں کی ری فلنگ اور بلیک ٹاپنگ کی تخمینہ لاگت بارے تفصیلات بتائی گئیں- معزز عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کیو ایم سی کو اس حوالے سے حکم دیا کہ وہ ایس ایس جی سی کے ساتھ اجلاس منعقد کریں جس میں اٹارنی جنرل ضروری اقدامات کے لیے کیو ایم سی کی معاونت کریں- معزز عدالت کو سمنگلی ایئر بیس کے رہائشی امین اللہ, طوغی روڈ کے رہائشی سید مظہر علی شاہ اور اولڈ پولیس لائن چمن پھاٹک کوئٹہ کے رہاشی عبدالعزیز نے ایک بار پھر اور بلنگ اور ایس ایس جی سی ایل کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس کی اصلاح سے انکار کی شکایت کی سینیئر لا افیسر ایس ایس جی سی ایل (کرا چی) کو مذکورہ شکایات کی کاپیاں فراہم کی گئیں جنہیں یہ متعلقہ کمیٹی کو بھیجنے کا حکم دیا گیا جس کے نتیجے میں ان مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کا بھی حکم دیا گیا- معزز عدالت کو قبل ازیں سینیئر لا افیسر (کراچی) ایس ایس جی سی ایل مخدوم الرحمان منیجر (لیٹیگیشن)لیگل ایس ایس جی سی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے دیگر حکام نے کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ جمع کروائی -رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ایس جی سی نے 10 جولائی 2023 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بلوچستان کے گھریلو صارفین کی جانب سے اور بلنگ چوری اور بقایہ جات کی وصولی کی شکایات کے جائزے کے لیے سندھ اور بلوچستان کے افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے مزید براں چوری کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ڈی جی (سی جی ٹی او) سندھ کو بھی تعینات کیا گیا ہے معزز عدالت کو محمد اسحاق ناصر ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ میٹر ٹیمپرنگ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے حوالے سے عدالت کی ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں اخبارات میں اشتہار جاری کیا جائے گا یہ اشتہار اب ایس ایس جی سی ایل کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی میٹر ٹمپرنگ کرنے والی ٹیم /فرد کی اطلاع دے گا اسے ایک لاکھ روپے نقد انعام دیا جائے گا اور ایسی ٹیم /فرد کے رنگے ہاتھوں گرفتاری کروانے والے کے لیے 2 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے جبکہ مخبر کا نام اور پتہ صیغہ راز میں رکھا جائے گا -معزز عدالت نے اگلی پیشی کے لیے تین ہفتے کا وقت دیتے ہوئے حکم نامہ کی کاپیاں متعلقہ حکام کو تعمیل کے لیے بھجوانے کا حکم دے دیا۔


