2018ءسے پاکستان میں آئین وینٹی لیٹر پر پڑا ہے، ایمل ولی خان

پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ موقع ملا تواے این پی سانحہ بابڑہ کا کیس ری اوپن کرے گی۔ جامع تحقیقات کرکے حق اور باطل کے حقائق پوری دنیا کے سامنے لائیں گے۔ سانحہ بابڑہ پختون تاریخ کا ایک سیاہ اور افسوسناک باب ہے۔ شہدا بابڑہ کی 75 ویں برسی کے موقع پر یادگار شہدا پر حاضری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی صدر اے این پی ایمل ولی خان نے کہا کہ 75 سال قبل اس دن قیوم خان نے نہتے خدائی خدمتگاروں پر گولیاں برسائیں تھی۔ اس دن 600 سے زائد خدائی خدمتگاروں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ سرکار نے پہلے پرامن خدائی خدمتگاروں کو مارا پھر انکو جرمانہ کیا گیا۔ بابڑہ سمیت قومی تحریک کے تمام شہدا ہمارے لئے قابل فخر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی آئینی مدت کے اندر صاف شفاف انتخابات چاہتی ہے۔ 2018 میں نگران وزیراعظم شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب نہیں ہوپایا تھا۔ موجودہ نگران وزیراعظم محض ایک مہرے کے سوا کچھ نہیں۔اصل قوتوں سے گزارش ہوگی کہ انتخابات صاف شفاف اور مداخلت سے پاک ہونے چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 سے پاکستان میں آئین وینٹی لیٹر پر پڑا ہے۔ آئین محض عوام کے لئے آئین ہے، مقتدر قوتوں کیلئے آئین کی مثال ردی ہے۔ انتشار پھیلانے والے انسانی حقوق کی آڑ میں سزا سے نہیں بچ سکتے۔ کسی کو حق حاصل نہیں کہ سرکاری تنصیبات اور گھروں میں تھوڑ پھوڑ کریں۔جو نام نہاد لیڈر جیل میں مچھر تک برداشت نہیں کرسکتا وہ انقلاب کیسے لائے گا۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پختون اکابرین کے خلاف پروپیگنڈے اور سازشیں پچھلے سو سال سے جاری ہیں۔ہر دور میں باچا خان کے پیروکاروں کو ختم کرنے کے دعوے کئے گئے، ہم آج بھی میدان میں کھڑے ہیں۔ جب تک ایک بھی پختون ہوگا، خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل اے این پی شکل میں موجود ہوگا۔ جب تک پختون متحد نہیں ہوں گے، انکے حقوق سلب ہوتے رہیں گے۔جب تک پختون خود اپنی حالت خود نہیں بدلیں گےاسی طرح استحصال کا سامنا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں