شکارپور میں ڈاکوﺅں کے ہاتھوں قتل اور اغوا کیخلاف بگٹی برادری کے احتجاجی دھرنے

شکارپور (انتخاب نیوز) تین دن قبل سندھ کے شہر شکارپور کی مین ہائی وے پر ڈیرہ بگٹی کے مقامی تاجروں کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جسکے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا جبکہ دو افراد کو جبری لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی سے ہجرت کرنے والے نہتے بگٹیوں پر ڈاکووں کی فائرنگ سے دو افراد کا قتل اور دو کے اغواءہونے کے بعد بگٹی قبیلے کے سیکڑوں کی تعداد میں افراد سندھ اور بلوچستان میں سراپا احتجاج ہیں۔ سابقہ ایم این اے سید خورشید شاہ سے مظاہرین کے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے۔ جائے وقوعہ سمیت ملک بھر میں شدید گرمی کے باوجود بگٹی قبائل کی جانب سے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری اور مغویوں کی بازیابی کے لیے مین شاہراہوں اور ہائی ویز پر مسلسل احتجاج جاری ہے لیکن بدقسمتی سے سندھ کی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی، جس سے مغویوں کے ورثا کی پریشانی اور بگٹی قوم میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و سندھ حکومت اس مسئلے کا نوٹس لیکر مغویوں کی بازیابی اور قاتلوں کی گرفتاری کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ ورثا کو انصاف مل سکے۔ سندھ کے علاوہ بلوچستان کے شہر نصیرآباد، جعفرآباد، حب چوکی میں بھی مختلف شاہراہوں پر احتجاج جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں