یعقوب اور شمس کے لاپتاہونے کیخلاف خضدار میں احتجاج، انتظامی یقین دہانی پر دو روز کیلئے موخر، شاہراہ بحال

خضدار (انتخاب نیوز) ضلعی انتظامیہ خضدار سے مذاکرات کے بعد دو دن کے لئے احتجاج موخر کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر کیمپیئن جاری رہے گی، اہلخانہ فضل یعقوب و شمس بلوچ۔ تین روز پہلے لاپتہ ہونے والے جامعہ سرگودھا کے طالبعلم مولہ کے رہائشی شمس بلوچ اور گزشتہ رات جبری گمشدگی کا شکار ہونے فضل یعقوب بلوچ کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خضدار جمیل بلوچ اور ضلعی انتظامیہ کے وفد کی جانب سے مذاکرات میں تین روز کے اندر فضل اور شمس بلوچ کی بحفاظت بازیابی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج مذکورہ مدت تک موخر کرتے ہیں اور پر امید ہیں کہ فضل یعقوب اور شمس بلوچ کو بازیاب کرکے خاندان کی اذیت دور کی جائے گی۔ واضح رہے کہ تین روز قبل مسلح افراد نے شمس بلوچ کو انکے گھر واقع کھنڈ ایریا خضدار سے جبراً لاپتہ کیا گیا اور گزشتہ رات 15 اگست کو 1 بجکر 15 منٹ پر 9 ویگو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے کھنڈ خضدار میں واقعہ فضل یعقوب کے گھر پر دھاوا بول کر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور فضل یعقوب کو اٹھا کر نا معلوم مقام منتقل کیا تھا، جس کے بعد آج صبح لواحقین نے احتجاجاً مین آر سی ڈی روڈ نزد سنی ایریا خضدار سے بند کرکے فضل اور شمس کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ شام ساڑھے پانچ بجے مسافروں کی پریشانی کو مدنظر رکھ کر اہلخانہ نے ضلعی انتظامیہ سے اس امید پر مذاکرات کر کے تین روز کے لئے روڈ کھول کر احتجاج ملتوی کردیا کہ تین روز کے اندر فضل یعقوب اور شمس بلوچ کو بحفاظت بازیاب کرا کر گھر چھوڑ دیا جائے گا۔ اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر خضدار و انتظامی وفد مذاکرات پر جلد عملدرآمد کرکے خاندان کو ذہنی اذیت سے نجات دلائیں گے، بصورت دیگر خاندان، سول سوسائٹی خضدار، طلبہ جماعتوں، سیاسی، سماجی، قبائلی و مذہبی رہنماﺅں سمیت دیگر احباب کے ساتھ ملکر دوبارہ ملک بھر میں احتجاج، بھوک ہڑتالی کیمپ اور لانگ مارچ جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں