سخت اپوزیشن نہ ہونے کے باوجود میر قدوس عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکے، جام کمال

کوئٹہ (آن لائن) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی نے کہا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر میر علی مردان ڈومکی پر کسی کا اعتراض سامنے نہیں آیا پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو سب کو قبول کرنا چاہئے ہم نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں سخت اپوزیشن کا سامنا کرنے کے باوجود ڈیلیور کیا ہے میر عبدالقدوس بزنجو کو سخت اپوزیشن کا سامنا نہ ہونے کے باوجود وہ عوام کی توقعات پر پورا نہ اترسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان ڈومکی کی تقریب حلف برداری کے بعد گورنر ہاوس کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اُن کا کہنا تھا کہ میں نے ساڑھے تین سال اسمبلی میں گزارے ہیں اور میرے دور حکومت میں حکومت پر اپوزیشن کا بھرپور دباو تھا میں اور میری ٹیم بھرپور تیاری سے جاتے تھے اور اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ہرموقع پر سامنا کرتے تھے مجھے بحیثیت سیاستدان جمعیت علماءاسلام ہو یا بلوچستان نیشنل پارٹی کی ذاتیات پر کسی سے کوئی اختلاف نہیں وہ سیاسی جماعتیں ہیں سیاست میں ایک دوسرے سے نظریاتی اختلافات ہوتے ہیں لیکن ہمیں اُن اختلافات کو اُس حد تک نہیں لیجانا چاہئے کہ جس سے بدگمانی اور نفرت میں اضافہ ہو سیاست کو سیاست کی نظر سے دیکھنا چاہئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی سیاسی رہنماوں اور سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں میری بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اُنکا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی جس مقصد کے لئے قائم ہوئی تھی ہم نے کوشش کی کہ اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے لیکن کامیاب نہ ہوسکے اسلئے ہم سیاسی لوگ ہیں اور عوام کی امیدیں ہم سے وابستہ ہیں ہماری کوشش ہے کہ ہم کسی ملک گیر قومی پارٹی میں جائیں یہ ہمارا حق ہے تاکہ بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں پائے جانیوالے احساس محرومی کو دور کرسکیں انہوں نے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو سخت اپوزیشن کا سامنا نہ ہونے کے باوجود وہ عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکیں اگر انہیں کوئی تحفظات ہیں تو وہ میرے علم میں نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں