ڈیجیٹل مردم شماری میں بلوچستان کی شمار آبادی کو بحال کیا جائے، سینیٹر کامران مرتضیٰ
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کی آبادی میں کمی کے معاملہ پر ہائیکورٹ میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیابلوچستان کی آبادی میں کمی کا معاملہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج ہے، اس سلسلے میں ایک آئینی درخواست ہائیکورٹ میں حسن کامران ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے، درخواست گزار کی پیروی سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کی درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی دو کروڑ 17 لاکھ تھی، مشترکہ مفادات کونسل نے غیرقانونی طور پر بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ کی کمی کی، بلوچستان کی آبادی میں جو کمی کی گئی اس کو دوسرے صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے کیونکہ اس کمی سے ملک کی مجموعی آبادی میں کمی نہیں کی گئی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں منتخب وزرا اعلی کو ہونا چاہئے تھا، مشترکہ مفادات کونسل کے جس اجلاس نے آبادی میں کمی کی اس میں دو صوبوں کے نگران وزرا اعلی شریک تھے، مشترکہ مفادات کونسل کی بلوچستان کی آبادی میں کمی سے متعلق فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جائے درخواست گزار نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں بلوچستان کی شمار کی گئی آبادی کو بحال کرنے کا حکم صادر کیا جائے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے درخواست کی سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو بلوچستان حکومت نے کیوں چیلنج نہیں کیا۔اس پر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک شہری کی حیثیت سے متاثر ہونے کی بنیاد پر درخواست گزار نے اس فیصلے کو چیلنج کیا، ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست کےقابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔


