حکمرانوں نے عالمی اداروں سے معاہدہ کرکے عوام پر بھاری بھرکم بجلی بلوں کا بوجھ ڈال دیا، جماعت اسلامی
کوئٹہ (آن لائن) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیرمولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ مہنگائی نے ہر طبقہ فکر کو مشکلات سے دو چار کردیا ہے جس کی وجہ سے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ناروا اقدام کے خلاف خلاف 2ستمبرکوبلوچستان میں بھی شٹرڈاﺅن ہڑتال کریں گے اس بارے تاجروں، وکلا و دیگر سے ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے رابطے کئے گئے ہیں۔ جمعرات کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے امیرمولانانورعلی، نائب امیرڈاکٹرعنایت اللہ، الخدمت فانڈیشن ضلع کوئٹہ کے صدرعبدالمجیدسربازی، انجمن تاجران کے نعمت اللہ اورجماعت اسلامی کے سوشل میڈیاکے انچارج اسامہ ہاشمی و دیگر موجود تھے۔ مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے عالمی اداروں سے معاہدے کر کے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں جس سے لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان معاہدوں کی وجہ سے بجلی کے بھاری بھرکم بل آرہے ہیں، تین دن تک وفاقی حکومت کا اجلاس چلنے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف ملک گیر احتجاجوں کی کال دی ہے اس سلسلے میں 2 ستمبر کو کوئٹہ میں بھی کامیاب شٹرڈان ہڑتال ہوگا۔ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے بلوچستان باراورکوئٹہ بارکے صدور، علی احمدکردایڈووکیٹ، راحب خان بلیدی ودیگروکلا رہنماﺅں سے بات کی ہے انہوں نے بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے جوکہ نیک شگون ہے یہ مسئلہ ایک پارٹی ایک طبقہ کا نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کا مسئلہ ہے۔ چند اشرافیہ نے لوگوں کو یرغمال بناکر عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہیں باقی لوگ پسماندگی اور غربت کی زندگی گزار کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ وکلا نے 2ستمبرکوعدالتی بائیکاٹ کااعلان کیاجوکہ عوام کے مفاد میں ہے۔تاجرتنظیموں کے رہنماں،ڈرائی فروٹ ایسوسی ایشن، صرافہ ایسوسی ایشن ودیگر سے ملاقاتیں کیں ہے تاکہ اجتماعی مسائل کے حل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے عوام اشرافیہ اور نگران حکومت کے وزرا کی بے حسی کو خاک میں ملانے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کررہے ہیں۔ نگران وزیرخزانہ کا بیان قابل مذمت ہے افسران کو دیئے مراعات ختم کرنے کی بجائے غریب عوام پر بجلی کے بھاری بھر کم بجلی کے بلوں کا بوجھ ڈال کر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ نگران خزانہ کو استعفیٰ دینا چاہئے کیونکہ وہ آفیسر شاہی کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہیں اخلاقی طور پر وہ عوامی حمایت کھو چکے ہیں۔ ہمیں یکجا ہوکر عوامی مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ لوگ ہر سطح پر آواز بلند رہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی جوکہ ان کی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔ اجتماعی مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کرنا اخلاقی کامیابی ہے جس سے وقتی طور پر چھوٹے بڑے کاروباری لوگوں کو نقصان ہوگا لیکن اس کا اثر حکومت پر ضرور پڑے گا۔


