آئی ایم ایف شرائط سے استشنیٰ، گوادر میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ
گوادر (این این آئی) آئی ایم ایف شرائط سے استشنی ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی خودساختہ قیمتوں کو پر لگ گئے، ایرانی پیٹرولیم کی قیمتیں بارڈر سے متصل علاقوں میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیںایرانی تیل کی مہنگی قیمتیں وافر مقدار میں بیرون صوبہ ترسیل و اسمگلنگ قرار،عوامی حلقوں کا گوادر سمیت مکران میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیئے گوادر سے بیرون صوبہ ایرانی پیٹرولیم و اشیاءکی ترسیل رکوانے کا مطالبہ،پبلک سروے رپورٹ۔تفصیلات کے مطابق ضلع گوادر و ایرانی بارڈر سے متصل آباد عوامی حلقوں میں ایک سروے رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے ساتھ ہی ایرانی پیٹرولیم مصنوعات جو تمام تر آئی ایم شرائط و ایف بی آر ٹیکس سے استشنا ہونے کے باوجود ان کی قیمتوں خود ساختہ و ہوشربا اضافہ کیا جاتا ہے، ایرانی پٹرولیم مصنوعات و ایرانی اشیا خورد ونوش ایران بارڈر سے براستہ سمندر کنٹانی ھور پہنچ کر بذریعہ مکران کوسٹل ہائیوے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں لیٹر ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بیرون صوبہ پاکستان بھر میں کی جاتی ہے اور بارڈر پر سپلائی دیمانڈ بڑھاکر قیمتیں مان مانی مہنگی کی جاتی ہیں، سروے میں بارڈر سے متصل علاقوں میں رہنے والے مہنگائی سے تنگ افراد کے مطابق انہیں ایرانی بارڈر سے آنے والے پٹرولیم مصنوعات سمیت خورد ونوش اشیاءکی خریداری میں کسی بھی قسم کا ریلیف نہیں مل رہا ہے، ان کے مطابق ایرانی پٹرولیم مصنوعات و خورد و نوش اشیاءکی گوادر و گرد و نواح میں مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ روزانہ کی بنیاد وافر مقدار و تعداد میں پاکستان بھر میں ترسیل کرنا ہے، سروے میں گوادر ضلع بھر میں مہنگائی سے نالاں عوام کے مطابق بارڈر کے کاربار میں محض ایک مخصوص طبقہ قابض ہے جو آئے روز اپنے من مانے نرخ مختص کرکے گوادر ضلع بھر کے عوام کی زندگیاں اجیرن بنارہے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی بارڈر سے آنے والی پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر خورد و نوش اشیاءپر نہ آئی ایم ایف کے شرائط لاگو ہیں اور نہ ایف بی آر ٹیکسس باوجود کہ انکے دام مہنگا کرنا بارڈر سے متصل عوام کے ساتھ زیادتی ہے، سروے میں عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ ایا اس بارڈر کے کاروبار کو قانونی شکل دیں یا بارڈر سے متصل علاقوں کو فی الفور تیل و اشیاءکی قیمتوں میں ریلیف دیکر عوام کو خود ساختہ مہنگے قیمتوں سے چٹکارا دلایا جائے۔


