سہولتکاری میں ساتھ نہ دینے والوں کو بھی استعفے دینے پر مجبور کیا جارہا ہے، سابق ڈی جی نیب

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق ڈی جی نیب اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کے رکن بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ نیب کے اہم عہدیداران کے استعفوں کا سلسلہ ادارے کی انتہائی سیاسی کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے، انھوں نے دعوی کیا ہے کہ سہولت کاری میں ساتھ نہ دینے والوں کو استعفی دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، استعفی دینے والوں میں سب سے پہلے نیب چیئرمین تھے، سابق چیئرمین نیب قانون کے احترام کے اصول پر ڈٹے رہے اور سیاسی انتقام سے باز رہے۔ اس کے بعد پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅنٹیبلٹی اور اب ڈپٹی چیئرمین نیب مستعفی ہوئے توشہ خان اور القادر ٹرسٹ جیسے غیر سنجیدہ کیسز ادارے کی انصاف پسندی، تنظیمی سالمیت اور منصفانہ کردار پر سوالیہ نشان ہیں۔مصدق عباسی نے کہا ہے کہ احتساب کا مرکزی ادارہ ہونے کے ناطے قوم توقع رکھتی ہے کہ ادارہ بد عنوانی کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کرے گا، نیب سیاسی انجینئرنگ میں ملوث ہونے سے باز رہے گا ۔ جب کہ ایک اور بیان میں ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ نیب افسران کے استعفوں کو ریاست کے ہاتھوں نیب کے سیاسی استعمال کی بدترین مثال ہے ۔ قرار دے دیا ۔کرپشن پاکستان کو درپیش مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ ہے، بدترین سیاسی انجینئرنگ پر بضد ریاستی حلقوں نے ہمیشہ اسے اپنے ماورائے دستور عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کیا ہے، کرپشن کو بیک وقت سیاست اور نظمِ حکومت کو تباہ کرنے کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔ ترجمان تحریک انصاف کے مطابق اربوں روپے کی چوری کے مرتکب کرپٹ مجرموں کو نیب قانون میں ترمیم کے ذریعے اپنے جرائم کو معاف کروانے کی کھلی چھوٹ دی گئی، نیب ترامیم کے ذریعے شریفوں اور زرداریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچانے کے بعد عمران خان کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا گیا، آفتاب سلطان بھی مستعفی ہوئے ۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئین و قانون سے انحراف میں معاونت سے انکار پر نیب کے سینئر افسران پر زمین تنگ کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے، نیب کے پراسیکوٹر جنرل اور ڈپٹی چیئرمین کے یکے بعد دیگرے استعفے آگئے ہیں، مجرموں کو این آر او دیکر کسی کیخلاف ظالمانہ سیاسی مقدمات کے مذموم مقاصد کبھی پورے نہیں ہوں گے،پی ٹی آئی ریاستی اثر سے مکمل آزاد اور آئین و قانون کے تابع شفاف احتساب پر یقین رکھتی ہے، عوام کی تائید و حمایت سے نیب کو سیاسی اثر سے مکمل آزاد کریں گے اور نظامِ احتساب کو مضبوط بناتے ہوئے قوم کے حقیقی مجرموں کا محاسبہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں