بارڈرز ٹریڈ کو بند کرکے صوبے کے لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی، بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین

کوئٹہ (یو این اے) چیئرمین مشترکہ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن محمودخان بادینی نے کہاہے کہ بلوچستان کے ایران سے منسلک بارڈرز ایریاپرچھوٹے اورمحدودپیمانے کے تجارت کو بندکرکے یہاں کے باسیوں کیلئے جو زمین تنگ کی گئی ہیں دراصل یہ یہاں کےلوگوں کی انسانی بنیادی حقوق پرقدغن کے مترادف ہیں بیروزگاری سے تنگ لاچار رخشان اور مکران کے لوگ اپنی مدد آپ زندہ رہنے کے لیے غیر ممنوعہ ایشیا کی تجارت سے گزارہ کررے حکومت کے اختیار دار انہے ریلیف فراہم کریں اور اس طرح کے ریلیف اس وقت تک فراہم کرنا ہوگا جب تک یہاں روزگار کے اور ذرائع فراہم نہیں کیئےجاتے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں خصوصا رخشان اور مکران ڈویژنوں میں گزشتہ ستر سالوں سےاب تک کوئی بڑی انڈسٹری لگانے اور ذراعت کے لیئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے ٹرانسپورٹ کیلئے موٹروے دورکی بات ہیں ہمیں دو روئہ ہائی ویز تک نہیں دیئے گئے لہذاظلم کا یہ سلسلہ ختم کیاجائے بارڈرز ٹریڈ کوچھوٹے کاروباری عوام اور ٹرانسپورٹرزکےلیئے اوپن کیا جائے اوران سےبلوچستان کے عوام کوفائدہ پہنچانے کے لیے نیشنل ہائی ویز خصوصا این چالیس تفتان روٹ پر سے کسٹمز اوردیگر درجنوں غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ہٹانے سےمتعلق جامع ریلیف کااعلان کیاجائےنگران وزیراعظم ہمارے جائز مطالبات پرعمل درآمد کرکے یہ ثابت کریں کہ واقعی انکا تعلق خاک بلوچستان سے ہیں اسکادل یہاں کےباسیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اینٹی سمنگلنگ کےنام پر قائم چیک پوسٹوں نجات اوربارڈری ٹریڈکے غیر ممنوعہ ایشیاکی نقل و عمل پر پابندی ختم کرائیں جہاں تک چینی کی افغانستان سمنگلنگ کی بات ہے ہم اسکے سخت مخالفت کرچکے ہیں افغان بارڈر سےاسکوبندکیاجائے یہاں رخشان ڈویژن کے علاقوں کوچینی بنیادی ضرورت سےمحروم رکھنے کیلئےپرچون دکانداروں کے چینی کواین 40 پرچیک پوسٹوں پراتاراگیاہے جسکی وجہ سےنوشکی،دالبندین،نوکنڈی تفتان ماشکیل میں مقامی آبادیوں میں ایک چمچ چینی نایاب ہے جبکہ ان علاقوں کے وسائل ہمارے ملک کے معیشت کیلئے گاماتاسےبھی ذیادہ اہمیت کے عامل رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں