محکمہ زراعت بلوچستان اور یورپی یونین کے تعاون سے زرعی یونیورسٹی کوئٹہ میں سیمینار

کوئٹہ(یو این اے )محکمہ زراعت بلوچستان اور یورپی یونین کے تعاون سے زرعی یونیورسٹی کوئٹہ میں ایک سیمینار منعقد ہوا سیمینار میں زرعی یونیورسٹی کے پروفیسرز زمیندار ایکشن کمیٹی ڈیلر ایسوسی ایشن اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی سیمینار میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ زراعت بلوچستان کے ڈائریکٹر عارف شاہ کاکڑ نے سیمینار کے شرکا کو بتا یا کہ جو سبزیاں اور پھل ہمارے پاس آرہے ہیں ان کو مختلف قسم کے سپرے کئے جاتے ہیں جو نہ صرف انسانی جانوں کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ ماحول کیلئے بھی نقصان دہ ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سبزیوں اور پھلوں میں ایسے زہر سپرے کرے جو انسانی جانوں کیلئے نقصان نہ ہو دوسری جانب عالمی سطح پر بھی بہت سخت قوانین بنائے جارہے ہیں جس سے ہمارے ملک کے ساکھ کو بھی نقصا ن پہنچنے کا خطرہ ہے دوسری جانب بین القوامی منڈیوں میں بہت سخت قوانین لاگو کیے گئے ہیں جس سے ہمارے ملک کے اجناس کا بین القوامی منڈیوں میں فروخت کیلئے مشکلات میںاضافہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ وہ پھل اور سبزیاں ایک مخصوص وقت کے بعد مارکیٹ میں لائی جائے تاکہ ان میڈیسن کے اثرات ختم ہو اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے بہت سے زہر ایسے ہیں جو پھلوں اور سبزیوں کو لگائے جاتے ہیں وہ انتہائی مضر صحت ہے لیکن چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ان کا فروخت بھی جاری ہے میں نے زمیندار ایکشن کمیٹی کو بھی اس حوالے سے آج کے سیمینار میں ان کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں آج سیمینار میں شرکت کی اسی طرح میڈیسن ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی شریک ہیں سب کے سامنے تمام حقائق بیان کردے ہیں تاکہ اس کیلئے ہم اقدامات اٹھائیں جس سے ہمارے لوگ بیماریوں سے محفوظ رہ سکے سیمینار سے یورپی یونین کے نمائندے اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں