گرلز ڈگری کالج خضدار طالبات کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، مطالبات پر عمل درآمد کیا جائے، ایس ایس ایف

خضدار ( پ ر) سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گرلز ڈگری کالج خضدار کالج میں ٹرانسپورٹ کی مد میں فیس طلبی، کلاسز کی بےقاعدگی، اساتذہ کی کمی، کالج انتظامیہ کی جانب سے مختلف ہتھکنڈوں کے زریعے طالبات کو ہراساں کرنے و دیگر مسائل کے باعث طالبات سراپا احتجاج ہیں، تنظیم طالبات کے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کی بھر پور حمایت کرتی ہے اور انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیںترجمان کا کہنا تھا کہ مزکورہ مسائل کے بارے میں طالبات نے بارہا کالج پرنسپل و دیگر زمہ داران سے ملاقات کی اور مسائل کو حل کرنے کا کہا لیکن طالبات کی خاطر خواہ شنوائی نہیں کی گئی، طالبات اکیڈمک سرگرمیوں کے متاثر ہونے کے باعث پر امن احتجاج پر مجبور ہیںانہوں نے کہا کہ بوائز ڈگری کالج ، گرلز ڈگری کالج، نرسنگ کالج خضدار ، یو ای ٹی خضدار ، ایس بی کے خضدار سمیت بلوچستان بھر کے تعلیمی ادارے مسائل کا گڑھ بن چکے ہیں، اکیڈمک سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے طلباء و طالبات زہنی تشنگی کا شکار ہیںترجمان نے کہا کہ ہم پرنسپل گرلز ڈگری کالج خضدار، ڈی ایم او قلات ڈویژن ، ڈائریکٹر آف جنرل کالجز بلوچستان، خضدار کے مقامی رہنماؤں سمیت دیگر زمہ داران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طالبات کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری رکھ سکیںواضح رہے کہ طالبات کہ احتجاج کے دوران کالج انتظامیہ نے کئی طالبات کو گھنٹوں تک زبردستی کالج میں محصور کرکے ہراساں کیا، لیکن بالآخر معصوم طالبات نے اعلی عہدوں پر بیٹھے مقتدر بالا حلقوں کی جانب سے روا ناروا سلوک کو نظر انداز کرتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور مین آر سی ڈی روڈ پر مسافروں کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا آج کا احتجاجی دھرنا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مزاکرات میں یقین دھانی پر محدود مدت کے لئے مؤخر کردیاترجمان نے آخر میں کہا کہ اگر طالبات کے مطالبات پر سنجیدگی سے عمل کرکے گرلز و بوائز ڈگری کالج خضدار کے مسائل حل نہیں کئے گئے تو طلباء و طالبات کے لئے پر امن احتجاج کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا اور تنظیم طلبہ کے احتجاج کو مزید وسعت دیکر سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی جس کی تمام تر زمہ داری متعلقہ شخصیات و اداروں پر عائد ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں