بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی ایجنسی را ملوث ہے، دہشت گردوں کو ان کے بلوں سے نکال کر انجام تک پہنچاہیں گے، سرفراز بگٹی
کوئٹہ(صباح نیوز) نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کا قتل کرنے والے لوگ فسادی ہیں مستونگ دھماکے میں کون ملوث تھا اور کہاں سے سہولت کاری ہوئی ہمیں معلوم ہے ، بلوچستان میں حالات خراب کرنے میں ’’را‘‘ملوث ہے ، ہم دہشتگروں اور انکے سہولت کاروں کو انکے بلوں سے ڈھونڈ یں گے ، دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کریں گے ۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر نگراں وزیراطلاعات بلوچستان جان اچکزئی ، نگراں وزیر داخلہ بلوچستان کیپٹن(ر) زبیر جمالی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ نگراں وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مستونگ دھماکے میں اب تک 55افراد شہید ہوئے ہیں واقعہ کے بعد آج کوئٹہ میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا ہے حکومت بلوچستان نے زخمیوں کا علاج پاکستان کے کسی بھی بڑے ہسپتال میں کروانے کا اعلان کیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور کور کمانڈر بلوچستان نے لواحقین کو یقین دلایا ہے کہ پاک فو ج زخمیوں کو علاج معالجہ فراہم کریگی ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے 12ربیع الاول کی خوشی منانے والوں کو نشانہ بنایا جو قابل مذمت ہے اس سے قبل بلوچستان میں ہزارہ برداری پر حملے کئے گئے مگر 12ربیع الاول کے جلوس پر یہ پہلا حملہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ سب کون اور کہاں سے کروا رہا ہے آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کو انکے بلوں سے ڈھونڈیں گے ان کے خلاف آپریشن بھی کریں گے دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے فسادی اور خارجی ہیں تمام اداروں نے اتفاق کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکر دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردوں کے لئے کوئی معافی نہیں ہے پاکستان میں پاکستانی رہیں گے ہم اپنے آئین کے مطابق چلیں گے اور دہشتگردوں کے سامنے سرینڈر نہیں کریں گے ملک میں ریاست کی رٹ قائم کریں گے اور اس کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست نے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کا عزم کر لیا ہے ہم ان کے ٹھکانوں پر جائیں گے اور انہیں ماریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ داعش کا پہلے بلوچستان میں کوئی منظم وجود نہیں تھا اب جو حملے ہوئے ہیں ان کی تحقیقات کر رہے ہیں حافظ حمد اللہ پر حملے کا ماسٹر مائند مارا جا چکا ہے تمام دہشتگرد ایک ہیں اور ان کی پشت پر ’’را‘‘ ہے بلوچستان میں دہشتگردی کے جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ان میں بھی را ملوث تھی ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکورٹی کا جائزہ لیں گے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ملک کی ایک ،ایک انچ کا دفاع کریں گے ریاست نے طے کرلیا ہے اب دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرینس ہے ماضی میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن ایک مقام پر پہنچنے کے بعد پالیسی میں تبدیلی ہوئی جو اب نہیں ہوگی ۔


